BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 12 January, 2006, 02:15 GMT 07:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایران نے بہت بڑی غلطی کی ہے‘
روسی وزیرِ دفاع نے بھی ایرانی اقدام پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے
امریکہ نے کہا ہے کہ ایران نے از سرِ نو یورنیم کی افزودگی کا فیصلہ کر کے بہت بڑی غلطی کی ہے جبکہ برطانیہ کا کہنا ہے کہ ایران کے اقدام سے خدشات بڑھ گئے ہیں اور یہ معاملہ سلامتی کونسل کے حوالے ہو سکتا ہے۔

امریکہ نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جانے کا جتنا امکان اب ہے اتنا پہلے کبھی نہیں تھا۔

امریکی حکومت کے مطابق ایران نے یورینیم کی افزودگی پر دوبارہ سے کام شروع کرنے کا فیصلہ کرکے سخت غلطی کی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس اس ضمن میں روس کے وزیر خارجہ اور جوہری توانائی کے نگراں ادارے آئی اے ای اے کے اہلکاروں سے صلاح مشورہ کر رہیں ہیں جو تجزیہ نگاروں کے مطابق اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکہ ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے کو سلامتی کونسل میں لے جانے کے لیے بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ادھر ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔ ایرانی ٹیلی وژن سے نشر کیے جانے والے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ دوسرے ممالک اگر ایران کے جوہری پروگرم کی نگرانی کریں تو وہ ان کو خوش آمدید کہیں گے۔

انہوں نےکہا: ’ایران کے عوام اور ان کی حکومت جو عوام کی خوہش کے مطابق وجود میں آئی ہے اپنی پوری طاقت اور اعتماد کے ساتھ اس معاملے پر بات کرے گی۔ اور یقیناً پر امن مقاصد کے لیے جوہری توانائی حاصل کرنے کے لیے دوراندیشی اور سمجھدارانہ رویہ بھی اختیار کرے گی۔ہم نے دوسری حکومتوں کو یہاں آنے اور اپنے جوہری پروگرام میں شرکت اور تعاون کی دعوت دے کر اپنے پورے خلوص کا مظاہرہ کیا ہے تاکہ دوسرے ممالک یہ بات قریب سے دیکھ سکیں کہ ہماری قوم کو نہ تو جوہری اسلحے کی ضرورت ہے اور نہ ہی ہم جوہری ہتھیار بنانا چاہتے ہیں۔‘

دریں اثناء برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر نے کہ ہے کہ یورپی وزراء کی جمعرات کو ہونی والی میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ اس معاملے سے کیسے نمٹا جائے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ لگتا ہے یہ بات اب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں جائے گی۔

ایران کا کہنا ہے کہ اس نے منگل کو نتاناظ کی جوہری تنصیب سے اقوامِ متحدہ پر لگی ہوئی بندش توڑ دی ہے کیونکہ اس بجلی پیدا کرنی ہے اور اس اقدام کا مقصد جوہری ہتھیار بنانا نہیں ہے۔

لیکن عالمی جوہری ادارے نے کہا ہے کہ ایران چھوٹے پیمانے پر یورینیم کی افزودگی شروع کر رہا ہے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کی کوشش اور امید ہے کہ ایران کا ارادہ بدل جائےاور اس کے لیے سفارتی ذرائع استعمال ہو رہے ہیں۔

ماضی میں روس نے اس بات کی مخالف کی ہے کہ ایران کا قضیہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھیجا جائے لیکن بدھ کو روس کے وزیرِ دفاع سرگئی ایوانوف نے ایرانی اقدام کی مذمت کی اور کہا کہ تہران کے تازہ ترین فیصلے سے انہیں ذاتی طور پر تکلیف ہوئی ہے اور ان کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

اسی بارے میں
رفسنجانی کا سخت ردِ عمل
11 January, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد