BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 January, 2006, 11:49 GMT 16:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رفسنجانی کا سخت ردِ عمل
ایران کے سابق صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی
ایران کے سابق صدر نے مغربی ممالک کے رویے کو سامراجی قرار دیا ہے۔
ایران کے سابق صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی نے ایران کے جوہری پروگرام پر بین الاقوامی برادری کے منفی رویے پر سخت تنقید کی ہے۔

اکبر ہاشمی رفسنجانی حج کے موقع پر ایرانی ٹی وی پر بات کر رہے تھے۔

انہوں نے ایران کے اپنے جوہری پروگرام جاری رکھنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ صحیح ہے لیکن اس میں احتیاط ضروری ہے کیونکہ یہ اب کافی حساس معاملہ بن گیا ہے۔

ایران کی جانب سے یورینیم کی از سرِ نو افزودگی کے اعلان کے بعد عالمی سطح پر سخت ردِ عمل سامنے آیا تھا۔

 سابق صدر رفسنجانی نے کہا کہ وہ حیران ہیں کہ جمہوریت، انسانی حقوق اور آزادی کے موجودہ دور میں بین الاقوامی برادری نے اتنے دادا گیری والا رویہ اپنایا ہے۔

اکبر ہاشمی رفسنجانی نے کہا کہ وہ حیران ہیں کہ جمہوریت، انسانی حقوق اور آزادی کے موجودہ دور میں بین الاقوامی برادری نے اتنا دادا گیری والا رویہ اپنایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سامراج‘ مغربی ممالک کی کوشش ہے کہ لوگوں کو لاعلمی اور جہالت کے حال میں رکھا جائے اور ’یہ ان کے امرانہ سوچ اور امتیازی سلوک کی مثال ہے۔‘

ایران کے سابق صدر کی یہ باتیں ٹیلی وژن پر براہ راست نشر ہوئیں۔

مغربی ممالک نے کیا کہا تھا

ایران کی جانب سے یورینیم کی از سرِ نو افزودگی کے اعلان کے بعد عالمی سطح پر سخت ردِ عمل سامنے آیا تھا اور واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے ترجمان سکاٹ مکلیلن نے کہا تھا کہ اس صورتحال پر امریکہ اپنے حلیفوں سے مشاورت کر رہا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ایران پر ممکنہ پابندیاں لگانے کے لیے ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جانے کے سوائے عالمی برادری کے پاس اب کوئی راستہ نہیں بچا۔

ادھر برطانیہ کے وزیر خارجہ جیک سٹرا نے کہا تھا کہ وہ اس معاملے کو سلامتی کونسل میں لے جانے کے ضمن میں بات چیت کے لیے فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ سے کل ملاقات کر رہے ہیں۔

روس نےبھی اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس معاملے کو سیاسی اور سفارتی انداز سے حل کیا جانا چاہیے۔

عالمی جوہری ادارے کے سربراہ محمد البرادعی نے کہا تھا کہ انہیں اس بات پر شدید تشویش ہے کہ ایران اپنے نیوکلیئر پروگرام کی معطلی ختم کر رہا ہے حالانکہ ابھی عالمی ادارے کے معائنہ کار اس پروگرام کی اصل حقیقت سے واقف ہی نہیں ہو سکے۔

مغربی ممالک کو تشویش ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے جبکہ ایران کا اصرار ہے کہ اس کا پروگرام مکمل طور پر پرامن ہے۔ اس معاملے پر اب یورپی اتحاد کے ممالک کا ایک اہم اجلاس جمعرات کو ہو رہا ہے۔

اصفہان کا ایٹمی پلانٹایرانی پیش رفت
یورینیم کی افزدگی میں ایرانی پیش رفت
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد