ایران: جوہری تحقیق کا آغاز پیر سے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کا کہنا ہے کہ وہ بین الاقوامی اپیلوں کے باوجود پیر سےجوہری ایندھن کی تحقیق کا کام دوبارہ شروع کر رہا ہے۔ جوہری ایندھن کی تحقیق کے کام کے دوبارہ آغاز سے یورینیم کی افزودگی کو چھوڑ کر ایران کے جوہری پروگرام پر دوبارہ کام شروع ہو جائے گا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جوہری تحقیقاتی اداروں پر دو برس سے لگے تالے کھول دیے جائیں گے جبکہ یورپی یونین نے خبردار کیا ہے اس قسم کے اقدام سے ایران کے جوہری عزائم پر ہونے والے مذاکرات کھٹائی میں پڑ سکتے ہیں۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان حامد رضا آصفی نے بھی ایران کے اس عمل کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ ہم تالے کھول دیں گے اور ہم نے یہ اعلان کر دیا ہے کہ ہم کل سے تحقیق دوبارہ شروع کر رہے ہیں‘۔ حامد آصفی کا کہنا تھا کہ جوہری ریسرچ کا دوبارہ آغاز کرنا ایران کا حق ہے اور یہ عمل بین الاقوامی معائنہ کاروں کی نگرانی میں سرانجام دیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے یہ بات بتانے سے انکار کیا کہ کس قسم کی تحقیق کی جائے گی اور اس تحقیق کے لیے کون سے جوہری مقامات کا استعمال کیا جائےگا۔ ایران اور یورپی یونین کے درمیان جوہری مذاکرات گزشتہ اگست میں اس وقت تعطل کا شکار ہو گئے تھے جب ایران نے سنہ 2004 سے معطل جوہری عمل دوبارہ شروع کر دیا تھا۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||