ایران کی جوہری ریسرچ شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے ایٹمی ادارے آئی اے ای اے نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ ایران نے جوہری ریسرچ کے لیے اپنے ایک ایٹمی مرکز کے بند تالے کھول دیے ہیں۔ انٹرنیشنل اٹامِک انرجی ایجنسی یعنی آئی اے ای اے نے کہا کہ ایران کے نتانز مرکز پر بند تالے ادارے کے نگرانوں کی موجودگی میں منگل کو کھولے گئے۔ جوہری ریسرچ شروع کرنے کا ایران کا فیصلہ مغربی ملکوں کے شدید دباؤ کے باجود کیا گیا ہے۔ ایران کے ایٹمی ریسرچ کے اداروں میں یورینیم کی افزودگی دو سال قبل معطل کردی گئی تھی۔ ایران کا کہنا ہے کہ توانائی کی پیداوار کے لیے پرامن ایٹمی پروگرام اس کا حق ہے لیکن مغربی ممالک کو خدشہ ہے کہ ایران اس سے ایٹمی ہھتیار بناسکتا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ یورینیم کی افزودگی سے ایران ایٹمی ہتھیار بناسکتا ہے۔ منگل کے روز ایران کی ایٹمی ایجنسی کے نائب سربراہ محمد سعیدی نے صحافیوں کو بتایا کہ ’آج سے ایٹمی ریسرچ کے ایرانی مراکز نے کام کرنا شروع کردیا ہے۔‘ آج سے نتانز مرکز پر جوہری ریسرچ کی شروعات پر ایران کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں بھیجا جاسکتا ہے۔ آئی اے ای اے کے رکن ممالک پر امریکہ اور دیگر مغربی ملکوں کی جانب سے اس بات کے لیے دباؤ بڑھنے کی توقع ہے۔ آئی اے ای اے کے سربراہ البرادعی نے کہا تھا کہ ایران میں ہونے والی تازہ ترین پیش رفت ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔ انہوں نے ایران سے کہا تھا کہ وہ جوہری ریسرچ شروع نہ کرے۔ عالمی ادارے کے سربراہ نے کہا تھا کہ تین برس کی تحقیقات کے باوجود جوہری توانائی کا نگران ادارہ ابھی تک ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق چند مخصوص پہلوؤں کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بین الاقوامی برداری کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||