جوہری تحقیق جاری رہے گی: ایران | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے صدر محمود احمدی نژاد کا کہنا ہے کہ ایران اپنی جوہری تحقیق جاری رکھے گا چاہے اس کا معاملہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کیا جائے یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے جوہری تحقیق پر رضاکارانہ پابندی ہٹا کر کوئی بین الاقوامی قانون نہیں توڑا۔ ایرانی صدر نے کہا کہ جوہری انسپکٹروں کو سینکڑوں دن کی تحقیق کے باوجود ایران کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام ممالک کو جوہری ٹیکنالوجی حاصل کرنی چاہیے تاہم اس کا استعمال پرامن مقاصد کے لیے ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے ملک کو جوہری ہتھیاروں کی ضرورت نہیں ہے۔ تہران میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ’ہتھیار انہیں چاہییں جو ہر چیز بزورِ طاقت حاصل کرنا چاہتے ہیں‘۔ محمود احمدی نژاد نے جوہری صلاحیتوں کے حامل ’مغربی ممالک کے دوہرے معیار‘ پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ’مغربی ممالک نہیں چاہتے کہ ایران جوہری تحقیق کرے‘۔ ایرانی صدر کی جانب سے یہ بیانات امریکہ اور یورپی ممالک کی جانب سے ایران کے جوہری تحقیق کے آغاز کے اعلان کی مذمت کے بعد سامنے آئے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ اسے پر امن جوہری ٹیکنالوجی کے استعمال کا حق ہے جبکہ امریکہ اور دیگر ممالک کا خیال ہے کہ ایران پرامن مقاصد کی آڑ میں جوہری ہتھیار تیار کرنا چاہتا ہے۔ امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور فرانس ایران کے جوہری معاملے کو سلامتی کونسل میں لے جانے کی دھمکی دے چکے ہیں اور یہ ممالک آئی اے ای اے کے دیگر رکن ممالک کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایران کا معاملہ سلامتی کونسل کے سپرد کر دیا جائے۔ اس معاملے کے سلامتی کونسل میں جانے کی صورت میں ایران پر پابندیاں بھی لگ سکتی ہیں۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||