BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 12 January, 2006, 18:45 GMT 23:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اقوام متحدہ ایکشن لے: یورپ، امریکہ
برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ
یورپی یونین ایران کے مسئلے کے سفارتی حل کے حق میں ہے
برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ نے کہا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ایران کے ایٹمی مسئلے کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے حوالے کر دیا جائے۔

امریکہ نے ایران کے ایٹمی تنازعے کو سکیورٹی کونسل کے حوالے کرنے کے یورپی یونین کے مطالبے کی حمایت کی ہے۔ امریکی وزیر حارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا ہے کہ ایران کے اس اقدام نے مذاکرات کی بنیاد کو منہدم کر دیا ہے۔

جرمنی کے وزیر خارجہ فرینک والٹر نے کہا ہے کہ یورپی ممالک کے ایران کے ساتھ مذاکرات بند گلی میں پہنچ چکے ہیں۔ یہ صورتحال ایران کے ایٹمی ایندھن کی افزودگی دو سال کے عرصے کے بعد دوبارہ شروع کرنے کے اعلان کے بعد پیدا ہوئی ہے۔

وزراء نے ایٹمی مسئلے پر اقوام متحدہ کے نگران ادارے کا ہنگامی اجلاس بلانے کی ضرورت پر زور دیا ہے جو اس معاملے کو سکیورٹی کونسل میں پیش کر سکتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے اس موقف کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ ایران کے لیے یورینیم کی افزودگی شروع کرنے کی کوئی منطق نہیں ہے۔

اقوام متحدہ ایران پر پابندیاں لگا سکتی ہے۔ امریکہ اور یورپی ممالک نے ایران پر خفیہ طریقے سے ایٹمی اسلحے کی تیاری کی کوشش کا الزام لگا رہے ہیں جبکہ ایران اس کی تردید کرتا ہے۔

جمعرات کے روز ایرانی صدر محمد احمدی نژاد نے کہا ہے کہ ایران بڑی طاقتوں کی پیدا کردہ اس صورتحال سے مرعوب نہیں ہو گا۔

برلن میں وزرائے خارجہ کی مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جرمن وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ڈھائی سال کے مذاکرات بے نتیجہ ثابت ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ یورپی ممالک کے اعتماد کا ایران نے متعدد بار امتحان لیا ہے لیکن یورینیم کی افزودگی کا دوبارہ آغاز مذاکرات کے عمل کو یکطرفہ طور پر رد کرنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ آئی اے ای اے کی مدد کے لیے سکیورٹی کونسل اس معاملے میں ملوث ہو جائے‘۔

برلن سے بی بی سی کے نمائندے رے فرلوگ کے مطابق وزرائے خارجہ نے بتایا کہ ایران کو ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں شمولیت سمیت دیگر کئی تجاویز اور مراعات دینے کی بھی دعوت دی گئی تھی۔

لیکن انہوں نے کہا کہ ’یہ بہت افسوس کا مقام ہے کہ ایران نے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور مذاکرات ناکام ہوتے نظر آ رہے ہیں‘۔ یورپی یونین کے امور خارجہ کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ یورپی یونین ایران کے لوگوں کے خلاف نہیں ہے اور ان کے پرامن مقاصد اور توانائی کے حصول کے حق کو تسلیم کرتی ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ اس پروگرام سے منسلک غیر یقینی حالات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وزراء نے کہا ہے کہ وہ اب بھی سفارتی حل کی تلاش میں ہیں لیکن سفارتی حل اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

ایران کے ایٹمی پروگرام کا بحران اس ہفتے شدت اختیار کر گیا ہے جب ایران نے اپنے تین ایٹمی پلانٹوں سے سیلیں ہٹا دیں جن میں نتانز کا یورینیم کی افزودگی کا پلانٹ بھی شامل ہے۔

گزشتہ سال اگست سے ایران نے یورینیم کی افزودگی کے علاوہ تمام ایٹمی سرگرمیاں شروع کر دی تھیں۔ اس کا اصرار ہے کہ وہ ایٹمی صلاحیت توانائی کے حصول کے لیے حاصل کرنا چاہتا ہے۔

اسی دوران برطانیہ اور روس نے اگلے ہفتے لندن میں ایک میٹنگ بلائی ہے جس میں امریکہ، روس، برطانیہ، جرمنی، فرانس اور چین شرکت کریں گے۔

اسی بارے میں
رفسنجانی کا سخت ردِ عمل
11 January, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد