BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 13 January, 2006, 19:27 GMT 00:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران: پابندیوں کی طویل مسافت

سکیورٹی کونسل
سکیورٹی کونسل میں اتفاق رائے حاصل کرنا ایک مشکل کام ہو گا
ایران پر پابندیاں لگانے سے تنازعے کا ایک نیا دور شروع ہو جائے گا جس میں یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کا مقصد حاصل ہو سکے گا یا نہیں۔

پابندیاں معاشی نوعیت کی ہی ہو سکتی ہیں جن کے اثرات کے متعلق کئی سوالیہ نشان موجود ہیں اور ان کے نفاذ سے پہلے بہت سے مراحل درپیش ہیں۔

سب سے پہلے تو مغربی ممالک کو اس بات پر متفق ہونا ہو گا کہ ایران کا یورینیم کی افزودگی کے لیے اقوام متحدہ کی سیلیں توڑنے کا فیصلہ سرخ لائن عبور کرنے کے مترادف ہے جس کے بعد اب کم از کم سفارت کاری کی گنجائش ختم ہو گئی ہے۔

یورپی یونین کے تین ممالک فرانس، جرمنی اور برطانیہ جو کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہے تھے، اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں۔

اس کے بعد مغرب اور اس کے اتحادیوں کو اقوام متحدہ کی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ممبران کی ایک بڑی تعداد کو اس بات پر آمادہ کرنا ہو گا کہ اس معاملے کو سکیورٹی کونسل کے حوالے کر دیا جائے۔

پھر سکیورٹی کونسل، اگر اس میں کافی اتفاق رائے پایا جائے تو بھی وہ ایران کو کسی اقدام سے پہلے خبردار کرے گی۔ ہو سکتا ہے کہ ایران سے کہا جائے کہ وہ اپنی تمام ایٹمی سرگرمیاں بند کرے اور دوبارہ مذاکرات کے عمل میں شامل ہو جائے۔

فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ
یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے معاملے کو سکیورٹی کونسل میں لے جانے کی ضرورت پر زور دیا ہے

اگر ایران اس سے انکار کرے تو صرف اسی صورت میں اس پر پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔ لیکن کس قسم کی پابندیاں؟ زیادہ تر تجارتی نوعیت کی پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں جن کا نشانہ ایران کی تیل اور گیس کی صنعت ہو گا۔

ایران ان دنوں ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کا ممبر بننے کی کوشش میں ہے، اس کی درخواست کو روک لیا جائے گا۔ یہ درخواست ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے جس پر مزید پیش رفت نہیں ہو گی۔

امریکہ نے پہلے ہی ایران کے ساتھ تجارت بند کر رکھی ہے۔ اس کی خواہش ہے کہ امریکی کمپنیوں کو ایران کی تیل کے کنوؤں کی تلاش میں مدد سے روکا جائے۔

تیل اور گیس ایران کی سب سے بڑی برآمدات ہیں۔ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے مطابق تیل، گیس اور دیگر معدنیات ایران کی برآمدات کا چھیاسی فیصد ہیں۔

لیکن امریکہ کو دوسرے ملکوں سے اتنے سخت اقدامات کی توقع نہیں ہے اور کچھ ملکوں کو اس پر آمادہ کرنا مشکل ہو گا۔

مثال کے طور پر ویٹو پاور کا حامل چین جو سکیورٹی کونسل کا مستقل رکن بھی ہے اس وقت تیل کی تلاش میں ہے۔ اس وجہ سے وہ مشکل سے ہی ایرانی تیل کی تجارت پر پابندی کے حق میں ووٹ دے گا۔ خاص طور پر ان حالات میں جب اس نے نومبر 2004 میں ایران سے تیل اور گیس کی خریداری کا معاہدہ کیا ہے جس کی مالیت ستر ارب ڈالر ہے۔

مغرب کو تیل کے حالیہ بحران کے پیش نظر بھی بہت محتاط رہنا ہو گا۔ اس وقت جاپان ایرانی تیل کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے اور وہ اس میں کمی کو زیادہ پسند نہیں کرے گا۔

روس جو کہ ایران کے لیے ایٹمی توانائی کا پلانٹ بنا رہا ہے اس مسئلے میں بہت اہم کردار ادا کرے گا۔ روس کا رویہ ایران کی جانب کچھ تنقیدی ہو گیا ہے جس کی بڑی وجہ ایران کا روس کی اس پیشکش کو رد کرنا ہے کہ روس اس کے لیے یورینیم کی افزودگی کر دے گا تاکہ وہ اپنی توانائی کی ضروریات پوری کر سکے۔

لیکن پھر بھر روس اتنا آگے جانے سے ہچکچائے گا۔ اس لیے دیکھنا یہ ہے کہ کیا پابندیاں لگائی جا سکیں گی اور کیا ان کا کوئی فائدہ ہو گا؟

نتانز کا ایٹمی پلانٹ سخت سکیورٹی میں
ایران نے نتانز کے پلانٹ پر موجود اقوام متحدہ کی سیلیں توڑ دی ہیں

مستقبل قریب میں یہ بہت مشکل نظر آتا ہے۔ اگرچہ ایران کی صنعت اس سے متاثر ہو سکتی ہے۔ لیکن ایران کی مذہبی اور سیاسی قیادت اس سے پریشان نہیں ہے۔ دنیا میں تیل کی مانگ بہت زیادہ ہے اور ایران کے پاس یہ وافر مقدار میں ہے۔

ایرانی قیادت کی نگاہیں بڑے افق پر جمی ہیں۔ ایران کا کہناہے کہ اسے اٹیمی ایندھن پیدا کرنے کا حق ہے اور اس کے بقول اسے ’مغربی دباؤ‘ کے سامنے نہیں جھکنا چاہیے۔

جب سیاست اور قومی حمیت کا معاملہ ہو تومعاشیات کو پیچھے ہٹنا پڑتا ہے اور ایران میں تو یہ پہلے ہی قومی غیرت کا معاملہ بن چکا ہے۔

ایران اپنے قانونی حقوق کا استعمال کر رہا ہے۔ این پی ٹی کے تحت اسے معائنہ کاروں کی موجودگی میں ایٹمی ایندھن تیار کرنے کا حق ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ صرف یہی کرنا چاہتا ہے۔

اس کے جواب میں یہ دلیل بھی دی جاتی ہے کہ ایران نے خفیہ طریقے سے افزودگی کا عمل جاری رکھ کر اپنا یہ حق کھو دیا ہے اور اب وہ اس طرح ظاہر نہیں کر سکتا کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ اب وہ صرف یہ ایندھن مربوط اور مروجہ نظام کے تحت خرید سکتا ہے۔

اور اگر پابندیاں مؤثر ثابت نہ ہوئیں تو؟ کبھی نہ کبھی تو ایران اس ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کر لے گا۔ اقوام متحدہ کے سابق معائنہ کار ہانس بلکس کے مطابق اس میں کئی سال لگ سکتے ہیں، لیکن جلد یا بدیر یہ ہو سکتا ہے۔

اس وجہ سے فوجی کارروائی ایجنڈے کا حصہ بن سکتی ہے۔ مغرب اور اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران ناقابل اعتماد ہے اور یہ اہم معاملہ ہے کیونکہ ایٹمی ایندھن کے لیے استعمال کی جانے والی ٹیکنالوجی سے ایٹمی ہتھیار بھی بنائے جا سکتے ہیں۔

اگر آپ ان میں سے ایک چیز میں مہارت حاصل کر لیں تو آپ دوسری چیز کے بھی ماہر بن جاتے ہیں۔ اس لیے ایران این پی ٹی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایٹمی ہتھیار بھی بنا سکتا ہے۔

اگر وہ لمحہ آیا تو یہ مغرب اور اسرائیل کے لیے ایک اور فیصلہ کن موڑ ہو گا۔ صدر بش نے متعدد بار کہا ہے کہ وہ ایران کو ایٹم بم نہیں بنانے دیں گے اور ہو سکتا ہے کہ اسرائیل اتنا انتظار کرنا پسند نہ کرے۔

اصفہان کا ایٹمی پلانٹایرانی پیش رفت
یورینیم کی افزدگی میں ایرانی پیش رفت
’ہولوکاسٹ ایک مفروضہ‘: احمدی نژادہولوکاسٹ، ’افسانہ‘
ایرانی صدر احمدی نژاد کا ایک اور متنازعہ بیان
محمود احمدی نژادان کی جڑیں فلسطین میں نہیں ہیں
اسرائیل کے لیے اپنی زمین میں سے جگہ دے دیں
اسی بارے میں
رفسنجانی کا سخت ردِ عمل
11 January, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد