BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 December, 2005, 11:34 GMT 16:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ہولوکاسٹ ایک افسانہ ہے‘
’ہولوکاسٹ ایک مفروضہ ہے‘
ایرانی صدر محمود احمدی نژاد ایک بار پھر تنازعہ کا شکار ہو گئے ہیں۔ انہوں نے ایک بیان میں نازیوں کے ہاتھوں یورپ میں ہونے والے یہودیوں کے قتل عام کو ایک مفروضہ قرار دیا ہے۔

انہوں نے ٹی وی پر دکھائے جانے والے ایک براہ راست پروگرام میں کہا کہ ’انہوں نے ایک کہانی گڑھ لی ہے جسے وہ یہودیوں کا قتل عام کہتے ہیں اور اب وہ اسے خدا، مذہب اور پیغمبروں سے بھی اونچا درجہ دیتے ہیں۔‘

جنوب مشرقی ایرانی شہر زاہدان میں ہزاروں افراد سے خطاب کرتے ہوئے صدر احمدی نژاد نے کہا کہ ان کے خیالات پر تنقید دراصل اسرائیل کے حامیوں کی طرف سے کی جا رہی ہے۔

’اگر کوئی ان کے سامنے خدا کی ذات، یا مذہب یا پیغمبروں سے انکار کرے تو وہ کچھ نہیں کہتے۔ مگر اگر کوئی یہ کہہ دے کہ یہودیوں کا قتل عام نہیں ہوا تو صہونیوں کے تمام ترجمان اور حکومتوں میں ان کے حامی چلانا شروع کر دیتے ہیں۔‘

انہوں نے اس بات کو دہرایا کہ یہودی ریاست بنانے کی ذمہ داری یورپ کی ہے۔

’اگر آپ (یعنی یورپ) نے اتنا بڑا گناہ کیا تو مظلوم فلسطینیوں کو اس کی سزا کیوں دی جا رہی ہے؟‘

’ہماری پیش کش یہ ہےکہ آپ یورپ، امریکہ یا الاسکا میں اپنی زمین کا ایک حصہ دیں تاکہ یہودی اس پر اپنی ریاست قائم کر سکیں۔‘

اسرائیل نے ایرانی صدر کے اس بیان کی مذمت کی ہے۔

اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان مارک ریگیو نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں امید ہے کہ اس قسم کے سخت گیر بیانات سے بین الاقوامی برادری کی آنکھیں کھل جائیں گی اور وہ اس حکومت کا اصل روپ پہنچان لے گی۔‘

پچھلے ہفتے صدر احمدی نژاد نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر دوسری جنگ عظیم میں یورپی ممالک نے یہودیوں کا قتل عام کیا تھا تو اسرائیل کے قیام کے لیے جرمنی یا آسٹریا میں زمین مختص کی جانی چاہیے۔

اس سے پہلے صدر احمدی نژاد نے اکتوبر میں کہا تھا کہ اسرائیل کا نام و نسان مٹا دیا جانا چاہیے۔

اکتوبر میں اسرائیل کا نام و نشان مٹانے کے بارے میں ان کے بیان پر اقوام متحدہ نے اپنی ناخوشی کا اظہار کیا تھا۔

جون دو ہزار پانچ میں ایرانی صدر منتخب ہونے کے بعد صدر احمدی نژاد نے اسرائیل پر ایک سخت گیر موقف اختیار کیا ہے۔

تہران میں بی بی سی کے نامہ نگار فارنسیس ہیریسن کا کہنا ہے کہ ایرانی ذرائع ابلاغ میں صدر کے بیانات کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔

یورپی یونین نے ایک بار پھر صدر احمدی نژاد کے بیانات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک سنجیدہ سیاسی بحث میں اس قسم کے خیالات کی کوئی جگہ نہیں ہے۔

برطانیہ کے وزیر برائے یورپ ڈگلس الیکزینڈر نے کہا کہ ’ہم ان بیانات کی سخت مذمت کرتے ہیں اور یہ بالکل نا قابل قبول ہیں۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد