’ایران پر دنیا کے صبر کی انتہا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی ایٹمی جوہری ادارہ یعنی آئی اے ای اے کے سربراہ محمد البرادعی نے کہا ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں دنیا کے صبر کی انتہا ہو رہی ہے۔ البرادعی ناروے کے شہر آسلو میں نوبل امن انعام لینے کے لیے آئے ہوئے ہیں جہاں انہوں نے کہا کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے متعلق تمام مسائل اگلے سال تک طے ہو جائیں گے۔ امریکہ اور یورپی یونین نے ایران پر ایٹمی ہتھیار بنانے کا الزام لگا یا ہے تاہم ایران نے کہا ہے کہ پروگرام ملک کے پر امن جوہری ضروریات پورا کرےگا۔ آئی اے ای اے نے کئی بار تہران کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ البرادعی نے کہا ہے کہ یورپی نمائندوں کو ایران سے بات چیت جاری رکھنی چاہیئے تاکہ تمام فریقین آپس میں مل بیٹھ کر مسائل حل کر سکیں۔ ایران کے برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے ساتھ مذاکرات اگست تک جاری تھے لیکن اس وقت بند ہو گئے جب ایران نے یورینیم پیدا کرنا شروع کردیا۔ اب تک مذاکرات کو پھر شروع کرنے کی تاریخ طے نہیں ہوئی۔ آئی اے ای اے کے سربراہ نے کہا ہے کہ ایران کو اپنے ایٹمی پروگرام کے بارے میں زیادہ سے زیادہ شفافیت کا مظاہرہ کرنا ہوگا کیونکہ ابھی بھی بہت شکوک موجود ہیں۔ البرادعی نے کہا ہے کہ انہیں اور آئی اے ای اے کو نوبل امن انعام ملنے سے ثابت ہو تا ہے کہ انہوں نے واقعی دنیا میں امن قائم کرنے کی کوششوں کی ہے۔ | اسی بارے میں ایران: یہودی ’جاسوس‘ کی رہائی25.04.2003 | صفحۂ اول ایران میں امریکہ مخالف مظاہرہ19 May, 2004 | آس پاس ایران پر حملہ، ابھی نہیں: رائس04 February, 2005 | آس پاس ایرانی ’ایٹمی نیت‘مشکوک14 June, 2005 | صفحۂ اول ایرانی اپنی راہ کا تعین خود کریں گے18 June, 2005 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||