ایران: وزیر تیل کے نام کی منظوری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کی پارلیمنٹ نے تین ماہ کے سیاسی تعطل کے بعد بالاخر ملک کے نئے وزیر تیل کے نام کی منظوری دے دی ہے۔ نئے وزیر تیل کاظمی وزیری حامنائی اسی عہدے پر عبوری حیثیت سے کام کر رہے تھے۔ وہ اس سے قبل پچھلی حکومتوں میں نائب وزیر تیل رہ چکے ہیں۔ ایران کے صدر احمدی نژاد نے ان کی تقرری سےپہلے کہا تھا کہ وہ تیل کی وزارت کے لیے کسی نئے چہرے کو دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ ملک کی تیل کی صنعت پر قابض مافیا پر قابو پایا جا سکے۔ صدر احمدی کی پچھلی تینوں نامزدگیوں پر اس بنیاد پر تنقید کی گئی تھی کہ نامز کردہ افراد ناتجرنہ کار ہیں اور اس طرح انہیں اس حوالے سے ارکان پارلیمنٹ کی حمایت حاصل نہیں ہو سکی۔ صدر احمدی کے پہلے نامزدکردہ شخص کو پارلیمنٹ نے مسترد کر دیا۔ دوسرے شخص نے شکست کے ڈر سےاپنا نام واپس لے لیا جبکہ تیسرے نامزدکردہ شخص اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نئے وزیر وزیری حامنائی کے سابق تجربے کی بنیاد پر ہی وہ اس وزارت کے لیے ارکان پارلیمنٹ کے نزدیک زیادہ مناسب تھے۔ واضح رہے کہ ایران خام تیل پیدا کرنے والا دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق ایران تیل کی برآمد سے اسی فیصد زرمبادلہ کماتا ہے۔ لہذا وزیر تیل کا عہدہ اس ساری صورت حال میں ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ تہران میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سخت گیر صدر کے مطلق العنان قسم کے طرز حکومت سے بہت سے ارکان پارلیمنٹ پریشان ہیں۔ انہیں شکایت ہے کہ بہت سی اہم تقریریوں میں ان سے مشورہ نہیں لیا گیا۔ |
اسی بارے میں عراق،ایران: تاریخی پرواز تہران اتر گئی07 November, 2005 | آس پاس مذاکرات میں ایرانی عدم دلچسپی04 December, 2005 | آس پاس ایران: نئے ایٹمی بجلی گھرکی تعمیر05 December, 2005 | آس پاس ایران کی حکومت کو تنقید کا سامنا07 December, 2005 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||