BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق،ایران: تاریخی پرواز تہران اتر گئی
عراقی طیارہ
طیارے میں عراقی حکام سمیت پینسٹھ مسافر سوار تھے۔
دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے آغاز کے پچیس سال بعد عراق کا پہلا مسافر بردار طیارہ ایران کے دارالحکومت تہران میں اتر گیا۔

ایران کے ہوابازی کے ایک افسر کے مطابق بغداد اور تہران کے درمیان باقائدہ پروازیں اس ماہ کی سولہ تاریخ سے شروع ہو جائیں گی۔

پروازوں کا آغاز دونوں ممالک کے درمیان آٹھ سال کی جنگ کے بعد بہتر تعلقات کی جانب اور قدم تصور کیا جا رہا ہے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر احمدی نژاد نے ایران کے دورے پر آئے ہوئے عراقی وزیر اعظم کو یقین دلایا ہے وہ عراق میں استحکام کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔

ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق صدر محمود احمدی نژاد نےاحمد شلابی سے کہا کہ ’ عراق کی جغرافیائی سرحدوں، اس کی آزادی اور اس کی طاقت کا دفاع ایران کے لیے خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔‘

ادھر امریکہ ایران پر الزام لگا رہا ہے کہ کہ وہ شدت پسندوں کو عراق میں داخلے سے روکنے کے لیے موثر اقدامات نہیں کر رہا جبکہ برطانیہ نے اپنے اس دعوٰی کو دھرایا ہے کہ بم بنانے کی ٹیکنالوجی ایران سے عراق منتقل ہو رہی ہے۔ ایران نے ان دونوں الزامات کی تردید کی ہے۔

تہران میں اترنے والے پہلی عراقی طیارے میں عراقی حکام سمیت پینسٹھ مسافر سوار تھے۔

ایرانی طیاروں کے عراق جانے کے بارے میں ایرانی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان نے کہا کہ ایسا سیکورٹی سے متعلق معاملات کے ھے ہونے کے بعد ہو گا۔

رائٹر سے بات کرتے ہوئے ترجمان رضا جعفرزادے نے کہا کہ ’ اگر وہ ہمیں سیکورٹی فراہم کرنے کی ذمہ داری لیتے ہیں تو ایران پو پروازیں بھجوانیں میں کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔‘

دو طرفہ مذاکرات کے دوران صدر احمدی نژاد نےاحمد شلابی کو یہ بھی کہا کہ عراق کی تعمیر نو کے لیے ایران اپنے تجربات اور مہارت پیش کرنے کو تیار ہے۔

ایرانی صدر نے ابادان اور عراقی شہر بسرہ کے درمیان تیل کی پائپ لائن بچھانے کے منصوبے پر کام کی رفتار کو تیز کرنے پر بھی زور دیا۔

واضح رہے کہ صدر احمدی نژاد اور احمد شلابی کے درمیان یہ بات چیت اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ احمد شلابی اگلے ہفتے امریکہ کے دورے پر جا رہے ہیں، تاہم نامہ نگاروں کا خیال ہے کہ کچھ امریکی حکام جحمد شلابی کے دورے کی اہمیت کو کم کر کے پیش کر رہے ہیں۔ ان حکام کے مطابق احمد شلابی کا دورہ محض کاروباری نوعیت کا ہے جس کے دوران وہ عراق کے قومی بجٹ اور تیل کی صنعت کے بارے میں صلاح مشورہ کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد