شام کی سرحد پر امریکی آپریشن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہزاروں امریکی اور عراقی فوجیوں نے عراق اور شام کی سرحد پر القاعدہ سے تعلق رکھنے والے ایک عراقی گروہ کے خلاف ایک نیا آپریشن شروع کر دیا ہے۔ امریکی فوجی ترجمان کے مطابق صوبہ انبار کے علاقے حصیبہ میں ہونے والے اس آپریشن میں پچیس سو امریکی فوجی اور عراقی فوجیوں کی ایک بڑی تعداد شریک ہے۔ امریکی فوج کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد’عراق اور شام کی سرحد پر حفاظتی انتظامات کی بحالی اور حصبیہ کے علاقے سے عراقی القاعدہ کا مکمل خاتمہ کرنا ہے‘۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فوجیوں کو پندرہ دسمبر کو ہونے والے عراقی پارلیمانی انتخابات سے قبل شدت پسندوں اور ان کے ’سیف ہاؤسز‘ کی تلاش کا کام بھی سونپا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ عراقی فوجیوں کی ایک بڑی تعداد کو کسی آپریشن میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ ’آپریشن سٹیل کرٹن‘ نامی یہ کارروائی شدت پسندوں کے خلاف گزشتہ ماہ انبار میں ہی کی جانے والی دو کارروائیوں کے بعد کی جا رہی ہے۔ حصیبہ کا علاقہ بغداد سے تین سو بیس کلومیٹر کے فاصلے پر سرحدی صوبے قائم کے نزدیک واقع ہے اور امریکی فوج کا خیال ہے کہ اسے القاعدہ کی جانب سے غیر ملکی شدت پسندوں کو پناہ دینے اور رقم اور ہتھیاروں کو چھپانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ امریکی فوج کے کرنل سٹیفن ڈیوس نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ وہ یہاں جنگجو نہیں لاتے بلکہ یہاں رہنما لائے جاتے ہیں، رقوم کی منتقلی ہوتی ہے اور دھماکہ خیز مواد کے ماہرین یہاں آتے ہیں‘۔ یاد رہے کہ کہ اگست میں حصبیہ میں ہی امریکی فوج نے ایک فضائی حملے میں القاعدہ کے سینیئر رکن ابو اسلام کو ہلاک کر دیا تھا۔ | اسی بارے میں عراق: ایک اور ہیلی کاپٹر تباہ 04 November, 2005 | آس پاس صدام کے فوجیوں کو بھرتی کی دعوت03 November, 2005 | آس پاس عراق: سابق فوجیوں کی بھرتی شروع02 November, 2005 | آس پاس عراق: چھ امریکی فوجی ہلاک 01 November, 2005 | آس پاس 26 ہزار عام شہری ہلاک ہوئے30 October, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||