سابق فوجیوں کو بھرتی کی دعوت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق عراقی صدر صدام حسین کی فوج میں کام کرنے والے عراقیوں کو فوج میں دوبارہ بھرتی ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ یہ فوج سنہ 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے بعد ختم کر دی گئی تھی تاہم اس فوج کے خاتمے کو ایک غلطی سے تعبیر کیا جاتا رہا ہے کیونکہ اس سے بڑی تعداد میں لوگ بے روزگار ہوگئے تھے۔ دوبارہ بھرتی کی اپیل کا مقصد ایک فوج تشکیل دینا ہے جو سنّی شدت پسندوں کے خلاف سرگرمِ عمل نیم فوجی دستوں کی جگہ لے سکے۔ سنہ 2004 کے بعد سے صدام کے دور میں کام کرنے والے فوجی بتدریج فوج میں شامل ہوتے رہے ہیں تاہم اب بھی عراقی فوج میں تربیت یافتہ اور تجربہ کار افسران کی شدید کمی ہے اور اب اس نئی مہم میں میجر کے عہدے تک کے افسران کو دوبارہ بھرتی کی ترغیب دی گئی ہے۔ ہر رینک کے فوجیوں کو آئندہ ماہ تک پانچ دن کا وقت دیا جائے گا کہ وہ ملک بھر میں موجود بھرتی کے دفاتر میں جا کر اپنا طبّی معائنہ کروائیں اور انٹرویو دیں۔ عراقی حکومت کے ترجمان لیتھ کبہ کا کہنا تھا کہ’ یہ حالات کی تبدیلی کے لیے ایک بڑا قدم ہے‘۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ صدام حسین کے زوال کے بعد یہ خیال تھا کہ کم وقت میں ایک فوج تشکیل دی جا سکتی ہے تاہم ایسا نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمیں اس بات کے بھی اشارے ملے تھے کہ صدام کی فوج کے اراکین شدت پسندوں کے ساتھ مل گئے ہیں‘۔ بی بی سی کے نمائندے راب واٹسن کے مطابق بھرتی کی یہ دعوت عراقی وزارتِ دفاع کا ایک اہم قدم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اعلان کا مقصد سنّیوں کو ملک کی فوج میں شامل کرنا اور ایک قومی فوج کی تشکیل ہے۔ | اسی بارے میں بغداد: تین خود کش دھماکے، بیس ہلاک25 October, 2005 | آس پاس ریفرنڈم نتائج: عراقی آئین منظور 25 October, 2005 | آس پاس امریکی ہلاکتیں دو ہزار تک پہنچ گئیں26 October, 2005 | آس پاس ’عراق میں کم از کم پچیس ہلاک‘29 October, 2005 | آس پاس 26 ہزار عام شہری ہلاک ہوئے30 October, 2005 | آس پاس عراق: چھ امریکی فوجی ہلاک 01 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||