بغداد: تین خود کش دھماکے، بیس ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغداد میں غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور تعمیراتی ٹھیکیداروں کے ہوٹل کے سامنے تین طاقتور دھماکوں میں کم از کم بیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ دھماکے چند منٹوں کے وقفے سے فلسطین اور ہلٹن ہوٹل کے قریب تین خودکش حملہ آوروں نے کیے۔ پولیس کے مطابق گاڑیوں میں سوار دو حملہ آوروں نے اپنی گاڑیوں کو ہوٹل کی حفاظتی دیوار سے ٹکرا دیا جبکہ ٹرک چلانےوالا تیسرا حملہ آور حفاظتی گھیرا توڑنے کی کوشش میں پھنس گیا اور ٹرک میں آگ لگنے سے اس میں موجود بارود پھٹ گیا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر سکیورٹی اہلکار، راہگیر اور ہوٹل کے ملازمین شامل ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں میں ایک امریکی بکتر بند گاڑی بھی تباہ ہو گئی تاہم گاڑی کے خالی ہونے کی وجہ سے اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ عراق کی قومی سلامتی کے مشیرموافق الرباعی کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں کا مقصد فلسطین ہوٹل پر قبضہ کرنا اور صحافیوں کو یرغمال بنانا تھا تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس سلسلے میں ان کے پاس کیا ثبوت ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے ممکن ہے کہ حملہ آوروں نے ان ہوٹلوں کے قریب دھماکہ کرنے کا منصوبہ عالمی ذرائع ابلاغ کی توجہ حاصل کرنے کے لیے بنایا ہو۔ بی بی سی کے جم میور کا کہنا تھا کہ پہلا دھماکہ بہت طاقتور تھا اور اس سے وسطی بغداد ہل کر رہ گیا۔ دوسرے دھماکے کے فوراً بعد گولیاں چلنے کی آواز سنائی دی اور تیسرا دھماکہ سب سے زیادہ ڈرامائی تھا۔ پہلے نارنجی رنگ کا گولہ اور پھر ایک خوفناک آواز اور اس کے بعد دھوئیں کا بادل۔ اس دھماکے سے عمارتیں ہل گئیں اور ملبہ ادھر ُادھر پھیل گیا۔ یاد رہے کہ فلسطین اور ہلٹن ہوٹل عراقی خود کش حملہ آوروں کا فطری ٹارگٹ ہیں کیونکہ ان میں غیرملکی ٹھیکیدار اور صحافی رہائش پذیر ہیں۔ | اسی بارے میں عراق: سنی وزیر کے مشیر ہلاک 18 October, 2005 | آس پاس عراق: بمباری سے ستّر افراد ہلاک17 October, 2005 | آس پاس عراق: دو بم حملے، 30 ہلاک 11 October, 2005 | آس پاس بغداد: خودکش حملے، دس ہلاک06 October, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||