ریفرنڈم نتائج: عراقی آئین منظور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ عراقی عوام نےملک بھر میں ہونے والے ریفرنڈم میں نیا آئین منظور کر لیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق صرف دو صوبوں نے اس مسودے کے خلاف ووٹ دیا جبکہ اس کو رد کرنے کے لیے تین صوبوں میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت تھی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیے جانے والے اعدادوشمار کے مطابق اٹھہتر فیصد عوام نے آئینی مسودے کے حق میں ووٹ دیا جبکہ اکیس فیصد افراد نے اس کی مخالفت کی۔ کمیشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ نینوا کے صوبے میں بھی عوام کی ایک بڑی تعداد نے اس مسودے کے خلاف ووٹ دیا تاہم یہ تعداد دو تہائی کے قریب نہیں پہنچ سکی۔ اس صوبے کے چھپّن فیصد افراد نے آئین کی مخالفت کی۔ الیکشن کمیشن کے ترجمان فرید ایار کا کہنا تھا کہ یہ نتائج سو فیصد درست ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ ووٹنگ کےعمل کے دوران نقل وحمل میں غلطیاں ہوئی ہوں تاہم اس معاملے میں کسی قسم کا دھوکہ نہیں کیا گیا ہے۔ عراق کی شیعہ اور کرد آبادی کی بھاری اکثریت نےاس آئینی مسودے کی منظوری کے حق میں ووٹ دیا اور اس منظوری کے بعد اب عراق میں دسمبر میں نئے پارلیمانی انتخابات کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ | اسی بارے میں صدام حسین کے خلاف مقدمہ شروع 19 October, 2005 | آس پاس بغداد: تین خود کش دھماکے، بیس ہلاک25 October, 2005 | آس پاس ریفرنڈم کا قانون نہیں بدلے گا05 October, 2005 | آس پاس عراقی ریفرنڈم میں ووٹنگ شروع15 October, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||