26 ہزار عام شہری ہلاک ہوئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کے آغاز سے مزاحمت کاروں کے حملوں میں 26 ہزار عراقی سویلین ہلاک یا زخمی ہوئے۔ امریکی وزارت دفاع کی طرف سے جاری کیے جانے والے اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ ماہ عراقی عام شہریوں میں ہلاکتوں کی شرح جنوری دو ہزار چار سے لیکر اب تک کسی بھی مہینے سے زیادہ رہی۔ امریکی وزارت دفاع کے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر کے مہینے کے دوران ہر روز اوسطاً چونسٹھ عراقی عام شہری ہلاک یا زخمی ہوئے جبکہ سن دو ہزار چار کے آغاز سے یہ اوسط چھبیس رہی ہے۔ زیادہ تر عراقی سویلین امریکہ کی قیادت والی اتحادی فوج پر کیے گئے حملوں میں ہلاک یا زخمی ہوئے۔ پینٹاگون کی رپورٹ کے مطابق عراقی انفراسٹرکچر پر تھوڑی تعداد میں کیے گئے حملوں سے تیل کی پیداوار پر کافی اثر پڑا ہے اور پانی اور بجلی سمیت شہری سہولیات پر عوام کے عدم اطمینان کا باعث بنا ہے۔ اس سے پہلے ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ عراق پر امریکی فوج کی ہلاکتوں کی تعداد دو ہزار ہو چکی ہے۔ | اسی بارے میں امریکی ہلاکتیں دو ہزار تک پہنچ گئیں26 October, 2005 | آس پاس 2000 کمپنیوں پر بےضابطگی کا الزام28 October, 2005 | آس پاس ’عراق میں کم از کم پچیس ہلاک‘29 October, 2005 | آس پاس بغداد دھماکے: کم از کم سترہ ہلاک24 October, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||