BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 October, 2005, 03:50 GMT 08:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
2000 کمپنیوں پر بےضابطگی کا الزام
ایک رپورٹ کے مطابق اقوامِ متحدہ کے تیل برائے خوراک پروگرام سے منسلک دو ہزار سے زیادہ کمپنیاں عراقی حکومت کو ناجائز رقوم فراہم کرنے میں ملوث ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدام حسین نے مختلف فرموں سے ایک اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر لیے تھے اور ان کے علاوہ کئی افراد بھی ان رقوم سے مستفیض ہوئے ہیں۔

ان کمپنیوں میں سے بعض نے ان الزامات کی تردید کی ہے جبکہ بعض نے اس مرحلے پر رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

اقومِ متحدہ کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ضروری نہیں کہ ان کمپنیوں کو علم ہو کہ رقم رشوت کے لیے استعمال کی جائے گی۔

پال واکر نے جو اس انکوائری کے سربراہ تھے کہا ہے کہ بدعنوانی کی سطح شاید اتنی وسیع نہ ہوتی اگر اقوامِ متحدہ کی انتظامیہ بہتر نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتی۔ انہوں نے زور دیا کہ اقوامِ متحدہ میں وسیع سطح کی اصلاحات کی ضرورت ہے۔

یہ پانچویں اور آخری رپورٹ ہے جس میں ساٹھ ارب ڈالر کے پروگرام میں مبینہ بدعنوانیوں کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ اس پروگرام کا مقصد عراق پر عائد پابندیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتِ حال کو قدرے نرم کرنا تھا۔عراق پر یہ پابندیاں کویت پر حملہ کرنے کے بعد لگائی گئی تھیں۔

اس پروگرام کے تحت صدام حسین کی حکومت اس صورت میں تیل فروخت کر سکتی تھی اگر اس سے ملنے والی رقم انسانی ضرورت کی اشیاء خریدنے کے لیے صرف ہو۔

انہوں نے کہا کہ مختلف کمپنیاں یہ تیل خریدنے کے بعد سرچارج کی صورت میں عراق کو مزید رقم دیتی تھیں جبکہ انسانی ضرورت کی اشیاء مہیا کرنے کے لیے عراق سے رقم وصول کرنے والے عراق کو ’تعاون کے بدلے نفع میں حصہ داری‘ کے زمرے میں رقم کا کچھ حصہ واپس کر دیتے۔

رپورٹ کے مطابق عراقی حکومت نے اقوامِ متحدہ کی تقسیم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تیل برائے خوارک کے پروگرام کو سیاسی رنگ بھی دیا۔ رپورٹ کے مطابق اگر اقوامِ متحدہ اور اس کے ذیلی ادارے نظم و ضبط دکھاتے تو کرپشن اتنی زیادہ نہ پھیلتی۔

ساٹھ ممالک کی چار ہزار پانچ سو میں سے لگ بھگ نصف کمپنیوں نے عراقی حکومت کو سرچارج کی شکل میں یا نفع برائے تعاون کے تحت میں بھاری رقوم دیں۔

تیل برائے خوراک پروگرام کے تحت سب سے بڑی ’رشوت‘ ملیشیاء کی ایک کمپنی نے دی جس نے طویل مدت میں عراق کو دس ارب ڈالر فراہم کیے۔ جن افراد پر الزام ہے ان میں اقوامِ متحدہ میں فرانس کے سفیر، روسی پارلیمان کے ایک رکن اور برطانوی پارلیمان کے جارج گیلوے بھی شامل ہیں لیکن ان تینوں نے الزامات سے انکار کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد