2000 کمپنیوں پر بےضابطگی کا الزام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک رپورٹ کے مطابق اقوامِ متحدہ کے تیل برائے خوراک پروگرام سے منسلک دو ہزار سے زیادہ کمپنیاں عراقی حکومت کو ناجائز رقوم فراہم کرنے میں ملوث ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدام حسین نے مختلف فرموں سے ایک اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر لیے تھے اور ان کے علاوہ کئی افراد بھی ان رقوم سے مستفیض ہوئے ہیں۔ ان کمپنیوں میں سے بعض نے ان الزامات کی تردید کی ہے جبکہ بعض نے اس مرحلے پر رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔ اقومِ متحدہ کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ضروری نہیں کہ ان کمپنیوں کو علم ہو کہ رقم رشوت کے لیے استعمال کی جائے گی۔ پال واکر نے جو اس انکوائری کے سربراہ تھے کہا ہے کہ بدعنوانی کی سطح شاید اتنی وسیع نہ ہوتی اگر اقوامِ متحدہ کی انتظامیہ بہتر نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتی۔ انہوں نے زور دیا کہ اقوامِ متحدہ میں وسیع سطح کی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ یہ پانچویں اور آخری رپورٹ ہے جس میں ساٹھ ارب ڈالر کے پروگرام میں مبینہ بدعنوانیوں کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ اس پروگرام کا مقصد عراق پر عائد پابندیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتِ حال کو قدرے نرم کرنا تھا۔عراق پر یہ پابندیاں کویت پر حملہ کرنے کے بعد لگائی گئی تھیں۔ اس پروگرام کے تحت صدام حسین کی حکومت اس صورت میں تیل فروخت کر سکتی تھی اگر اس سے ملنے والی رقم انسانی ضرورت کی اشیاء خریدنے کے لیے صرف ہو۔ انہوں نے کہا کہ مختلف کمپنیاں یہ تیل خریدنے کے بعد سرچارج کی صورت میں عراق کو مزید رقم دیتی تھیں جبکہ انسانی ضرورت کی اشیاء مہیا کرنے کے لیے عراق سے رقم وصول کرنے والے عراق کو ’تعاون کے بدلے نفع میں حصہ داری‘ کے زمرے میں رقم کا کچھ حصہ واپس کر دیتے۔ رپورٹ کے مطابق عراقی حکومت نے اقوامِ متحدہ کی تقسیم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تیل برائے خوارک کے پروگرام کو سیاسی رنگ بھی دیا۔ رپورٹ کے مطابق اگر اقوامِ متحدہ اور اس کے ذیلی ادارے نظم و ضبط دکھاتے تو کرپشن اتنی زیادہ نہ پھیلتی۔ ساٹھ ممالک کی چار ہزار پانچ سو میں سے لگ بھگ نصف کمپنیوں نے عراقی حکومت کو سرچارج کی شکل میں یا نفع برائے تعاون کے تحت میں بھاری رقوم دیں۔ تیل برائے خوراک پروگرام کے تحت سب سے بڑی ’رشوت‘ ملیشیاء کی ایک کمپنی نے دی جس نے طویل مدت میں عراق کو دس ارب ڈالر فراہم کیے۔ جن افراد پر الزام ہے ان میں اقوامِ متحدہ میں فرانس کے سفیر، روسی پارلیمان کے ایک رکن اور برطانوی پارلیمان کے جارج گیلوے بھی شامل ہیں لیکن ان تینوں نے الزامات سے انکار کیا ہے۔ | اسی بارے میں ’کوفی عنان کے خلاف نئےمیموز‘15 June, 2005 | آس پاس کوفی عنان کے خلاف دستاویز دستیاب15 June, 2005 | آس پاس تیل برائے خوراک: اہلکار برطرف02 June, 2005 | آس پاس کوجو کا فیصلہ پُرافسوس ہے: عنان29 March, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||