بغداد دھماکے: کم از کم سترہ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغداد کے سب سے محفوظ سمجھے جانے والے علاقے میں واقع دو ہوٹلوں کے قریب تین زور دار دھماکوں میں کم از کم سترہ لوگ ہلاک ہو گئے ہیں۔ عراق پولیس کے مطابق دھماکے فلسطین اور شیرٹن ہوٹلوں کے پاس ہو ئے۔ ان دونوں ہوٹلوں میں غیر ملکی صحافیوں کی ایک بڑی تعداد مقیم ہے۔ دھماکوں کے فوراً بعد بنائی جانی والی تصویروں میں دھویں کے بادل اٹھتے ہوئے دکھائے دیتے ہیں۔ ایک دھماکہ ایک کار میں رکھے بم سے کیا گیا تھا۔ امریکی خبر رساں ایچنسی اے پی نے، جس کے فلسطین ہوٹل میں دفاتر ہیں، خبر دی ہے کہ دھماکے میں کم از کم پانچ لوگ زخمی ہوئے ہیں۔دھماکوں کے بعد فائرنگ بھی کی گئی۔ بغداد کے ایک اور علاقے میں حملہ آوروں نے زیر تعمیر عمارت کے مزدورں پر حملہ کر کے گیارہ لوگوں کو ہلاک کر دیا۔ ہلاک کیے جانے والوں میں پانچ سگے بھائی ہیں جن کے سر اور سینے میں گولیاں ماری گئیں۔حملہ آور ایک بلڈر کو اغو کر کے لے گئے ہیں۔ عراق پولیس نے کہا کہ اس نے پچھلے چوبیس گھنٹوں میں سات لاشیں برآمد کی ہیں جن کو مار کر ویران جگہ پر پھینک دیا گیا تھا۔ ان میں تین عورتوں کی بھی لاشیں ملی ہیں۔ | اسی بارے میں صدام ٹرائبیونل کا ایک جج ہلاک02 March, 2005 | آس پاس رمادی و بغداد: کم از کم 10 ہلاک27 February, 2005 | آس پاس عراق: کار بم دھماکہ، دس ہلاک24 February, 2005 | آس پاس عراق: مساجد پر حملے، تیس ہلاک18 February, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||