عراق: سابق فوجیوں کی بھرتی شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں صدام حکومت کے زیر انتظام کام کرنے والے فوجیوں کو دوبارہ سے فوج میں بھرتی ہونے کی پیشکش کی گئی ہے۔ سن دو ہزار تین میں عراق پر امریکی حملے کہ بعد فوج کو سرکاری طور پر موقوف کر دیا گیا تھا۔ یہ ایک ایسا قدم تھا جسے ایک غلطی کے طور پر دیکھا گیا تھا کیونکہ اس سے بہت سے لوگ بے روزگار ہو گئے تھے۔ یہ پیشکش ایک ایسی سکیم کا حصہ ہے جس میں عراق میں موجود مختلف ممالک کے فوجیوں جنہیں سنی شدت پسندوں کی مزاحمت کا سامنا ہے کی جگہ عراقی شہریوں سےکو بھرتی کیا جائے گا۔ بدھ کے روز کم از کم بیس لوگ موصائب نامی قصبے میں بمباری سے ہلاک ہو گئے تھے۔ صدام کے زیر انتظام حکومت میں کام کرنے والے فوجی آہستہ آہستہ دوبارہ سے فوج میں آنے شروع ہو گئے ہیں لیکن ابھی بھی نئی فوج کے پاس تجربہ کار لوگوں کی کمی ہے۔ عراق کے وزیر دفاع صدون دولیمی نے ایک بیان میں میجر کے عہدے تک تمام سابقہ فوجیوں کو فوج میں دوبارہ سے نوکری کرنے کی دعوت دی ہے۔ اگلے مہینے سارے ملک میں ہر عہدے کے فوجیوں کو ملک بھر میں موجود بھرتی سینٹروں کے ذریعے پانچ دن تک فوج میں دوبارہ آنے کا موقع دیا جائے گا۔ دولیمی نے کہا کہ جو لوگ اپنی سرزمین کی خدمت کے لیے فوج میں بھرتی ہونا چاہتے ہیں ان کو چاہیے کہ وہ میڈیکل چیک اپ اور انٹرویو کے لیے ملک بھر میں موجود بھرتی سینٹروں سے رابطے کریں۔ بی بی سی کہ نامہ نگار نے کہا کے یہ قدم عراقی وزارت کے لیے بہت اہم ثابت ہو گا۔ یہ عراق کے سنی مسلمانوں سے رابطہ کرنے کے لیے کافی بڑی کوشش ہے تاکہ فوج تمام طبقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں پر مشتمل ہو۔ ایسی فوج کی لئے ان علاقوں میں گشت کرنا آسان ہو گا جہاں شدت پسند کافی مضبوط ہیں جیسا کہ ملک کا مغربی حصہ۔ سن دو ہزار تین میں عراق میں موجود امریکی ایڈمنسٹریٹر پال بریمر نے فوج کو ختم کرنے کا فیصلے کیا تھا ۔ مبصروں کے مطابق یہ قدم شدت پسندوں کے ہاتھوں میں کھیلنے کے برابر تھا۔ اپریل سن دو ہزار چار میں اس سکیم کو واپس لے لیا گیا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق عراقی فوج اس وقت ستر فیصد ان فوجیوں پر مشتمل ہے جنہوں نے صدام حکومت کے تحت بھی کام کیا تھا۔ لیکن اگر یہ بھرتی سکیم کامیاب ہو بھی جاتی ہے تو عراقی فوج کی تمام مشکلات حل نہیں ہوں گی جس کو مخبروں اور گھٹیا سازو سامان جیسے مسائل کا سامنا بھی ہے۔ | اسی بارے میں حفاظتی انتظامات سخت، حملے جاری 29 May, 2005 | صفحۂ اول امریکی فوجیوں پر مارپیٹ کا الزام16 July, 2005 | صفحۂ اول عراق: نئے آئین کے لیے رائے شماری16 October, 2005 | صفحۂ اول پولیس کی صفوں میں مزاحمت کار 26 July, 2005 | صفحۂ اول امن یا تشدد:عراقی سُنیوں کو انتباہ 24 August, 2005 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||