حفاظتی انتظامات سخت، حملے جاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغداد میں مختلف مقامات پر نئے ناکے قائم ہونے کے بعد شہر میں فوجیوں کی تعداد میں واظح طور پر اضافہ ہوا ہے۔ عراق میں خود کش حملے روکنے کے لیے شروع کی جانے والی ’آپریشن لائٹننگ‘ نامی اس کارروائی میں شہر کو مختلف سیکٹر میں تقسیم کیا جائے گا تاکہ حملہ آوروں کی نقل و حمل کو روکا جا سکے۔ کارروائی کے پہلے ہی روز بغداد میں خود کش حملوں میں نو فوجیوں سمیت گیارہ افراد ہلاک ہوگئے۔ ایک حملہ وزارت تیل کی عمارت کے قریب ہوا اور ہلاک ہونے والے دونوں افراد سیکیورٹی گارڈ تھے۔ دوسرا حملہ بغداد سے بیس کلومیٹر جنوب میں ایک ناکے پر ہوا جس میں نو فوجی ہلاک ہو گئے۔ گزشتہ پانچ ہفتوں کے دوران ایک سو بیس کار بم حملے ہو چکے ہیں۔ عراق کے نئے وزیر دفاع نے کہا شہر میں اب تک کی سب سے بڑی کارروائی میں چالیس ہزار فوجی حصہ لیں گے۔ ’آپریشن لائٹننگ‘ وزیر دفاع اور عراق کی نئی حکومت کا پہلا بڑا امتحان ہے جو گزشتہ کئی ہفتوں سے کابینہ کی تشکیل اور اپنے آپ کو منظم کرنے میں مصروف ہے جبکہ اس دوران کار بم حملوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ کارروائی کا زیادہ انحصار عراقی فوج کے نئے خصوصی دستے ہوں گے جبکہ امریکی فوجی ضرورت پڑنے پر سامنے آئیں گے۔ عراق میں سوالات اٹھائے گئے ہیں آیا صرف افرادی قوت کے ساتھ مزاحمت کاروں کو موثر طریقے سے روکا جا سکتا ہے۔ وزارت داخلہ کے ایک سابق مشیر کے مطابق معلومات حاصل کرنے کا بہتر نظام ہی دور رس نتائج دے سکتا ہے۔ اس کارروائی کے دوران نئے ناکوں کے قیام سے حفاظتی انتظامات میں جکڑے ہوئے شہر کے معمولات زندگی میں مزید خلل پڑے گا اور شہری اس کے واضح اثرات دیکھنا چاہیں گے۔ برطانوی فوجی ہلاک عراقی پولیس کے مطابق یہ واقعہ سڑک کے کنارے ایک بم کے پھٹنے سے پیش آیا۔ زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے کے لیے برطانوی فوجی ہیلی کاپٹر جائے واردات کی طرف روانہ کیے گئے۔ عراق کے کسی برطانوی فوجی کی ہلاکت ایک غیر معمولی بات ہے کیونکہ وہ ملک کے جنوب میں شیعہ اکثریت والے علاقے میں تعینات ہیں جہاں نئی حکومت کو کافی حمایت حاصل ہے۔ عراق میں اس سے پہلے آخری برطانوی فوجی یکم مئی کو ہلاک ہوا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||