امریکی فوجیوں پر مارپیٹ کا الزام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی اہلکاروں نے کہا ہے کہ گیارہ امریکی فوجیوں پر جنہوں نے زیرِ حراست مشتبہ مزاحمت کاروں کو مارا پیٹا تھا، فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔ اسی دوران برطانوی وزارتِ دفاع نے بتایا ہے کہ عراق میں سڑک پر نصب ایک بم کے پھٹنے سے برطانیہ کے تین فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ فوجی ہفتے کی صبح کے حملے میں زخمی ہوئے تھے۔ امریکی فوجی بیان کے مطابق فوجیوں کے خلاف الزامات بدھ کے روز ایک امریکی فوجی ہی کی شکایت پر عائد کیے گئے۔ اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ متاثر ہونے والی مشتبہ مزاحمت کاروں کو طبی امداد کی ضرورت نہیں پڑی۔ امریکی فوج ابھی تک ابو غریب جیل سکینڈل سے سنبھلنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ نے عراق کی سکیورٹی فوج پر بھی الزام لگایا ہے کہ وہ منظم طور پر قیدیوں کے ساتھ زیادتی کر رہی ہے۔ گیارہ امریکی فوجیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے ملٹری جسٹس کے ملٹری کوڈ کی خلاف ورزی کی ہے۔ امریکی فوج کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے ’فوج کی تحقیقات کے ڈویژن نے فوری طور پر واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔‘ ابو غریب جیل سکینڈل میں کئی امریکی فوجیوں پر مقدمہ چلایا گیا ہے اور انہیں جیل کی سزا ہوئی ہے۔ ادھر عراق میں ایک سینئر امریکی کمانڈر نے کہا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران عراق میں مزاحمت کم نہیں ہوئی بلکہ اس کی شکل تبدیل ہوئی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||