BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 June, 2005, 01:11 GMT 06:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عراق میں شکست کا سامنا نہیں‘
 ڈونلڈ رمز فیلڈ
ڈونلڈ رمز فیلڈ سے پھر استعفیٰ کا مطالبہ دہرایا گیا ہے
امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ نے کہا ہے کہ امریکی افواج کو عراق میں شکست کا سامنا نہیں ہے اور عراق سے امریکی فوج کے انخلاء کی تاریخوں کا تعین کرنا ایک غلطی ہو گی۔

امریکی سینیٹ کی کمیٹیوں کے سامنے اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ عراق سے امریکی افواج کے انخلاء کا تعین کرنا دہشت گردوں کو نئی زندگی دینے کے مترادف ہو گا۔

ڈونلڈ رمز فیلڈ کے بیان سے پہلے عراق میں امریکی افواج کے کمانڈر جنرل جان ابی زاد نے امریکی سینیٹ کی کمیٹی کو بتایا کہ چھ ماہ پہلے اتنے جنگجوؤں عراق نہیں پہنچ رہے تھے جتنے کے اب آ رہے ہیں۔

سینیٹ میں عراق کے بارے میں یہ سماعت ایک ایسے وقت ہو رہی ہے جب امریکہ میں عراق کی جنگ کے بارے میں عوامی رائے تبدیل ہو رہی ہے اور لوگ اس جنگ کی حمایت میں نہیں ہیں۔

بدھ کی رات کو اور جمعرات کی صبح کو بغداد میں ہونے والے بم دھماکوں میں تیس سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس پس منظر میں امریکہ میں ہونے والے عوامی رائے عامہ کے ایک جائزے کے مطابق اکاون فیصد لوگ کا خیال ہے کہ دو سال قبل عراق پر فوج کشی امریکہ کی ایک غلطی تھی۔

جنرل ابی زاد نے اپنے بیان میں کہا کہ اس وقت الجیریا، تیونس اور مراکش سے خود کش حملہ آور شام کے راستے عراق پہنچ رہے ہیں اور اردن اور سعودی عرب سے آنے والوں کے ساتھ شریک ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شام کی طرف سے اس سلسلے میں ان جنگجوؤں کی حمایت کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات بحث طلب ہے کہ آیا یہ حمایت سرکاری ہے کہ نہیں لیکن یہ بات واضح ہے کہ ان لوگوں کو دمشق کی حمایت حاصل ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر کارل لیون نے کہا کہ جنرل ابی زاد کا یہ بیان نائب صدر ڈکی چینی کے ان دعووں کی تردید کرتا ہے کہ عراق میں مزاحمت آخری دموں پر ہے۔

امریکی کانگرس میں ایک چھوٹے سے گروپ نے، جس میں دونوں جماعتوں کے ارکان شامل ہیں تجویز دی ہے کہ کانگرس سے ایک قرار داد منظور کرائی جائے جس میں صدر بش سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ اکتوبر سے عراق سے امریکی فوج کے واپس بلائے جانے کا سلسلہ شروع کریں۔

ڈونلڈ رمز فیلڈ کا کہنا ہےکہ جنگ میں وقت کا تعین نہیں کیا جا سکتا اور کسی چیز کی گارنٹی نہیں دی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم یہ جنگ ہار گئے ہیں یا ہار رہے ہیں غلط کہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں مزاحمت کاروں کو شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور عوامی سطح پر بھی ان کی حمایت میں کمی واقع ہوئی ہے۔

ڈیموکریٹک سینیٹر ایڈورڈ کینیڈی نے کہا کہ ماضی میں بھی ڈونلڈ رمز فیلڈ کے اندازے غلط ثابت ہوتے رہے ہیں اور انہوں نے رمز فیلڈ کے ایک مرتبہ پھر استعفی کا مطالبہ دہرایا۔

جنرل مائرز نے ڈونلڈ رمز فیلڈ کی بات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ کام مکمل ہونے سے پہلے فوجوں کا انخلاء انتہائی تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔

عراق میں امریکہ کے ایک لاکھ پینتیس ہزار فوجی موجود ہیں۔ امریکی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ ایک لاکھ اڑسٹھ ہزار پانچ سو عراق فوجیوں کو تربیت دے چکا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد