BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 13 January, 2006, 17:51 GMT 22:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران تنازعہ، پرامن حل چاہیئے: بش
ایران ایک قدم پیچھے نہیں ہٹےگا: احمدی نژاد
امریکی صدر جارج بش اور جرمنی کی چانسلر انگیلا مرکل نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ایٹمی تنازعے کا سفارتی حل چاہتے ہیں۔ صدر بش اور چانسلر مرکل واشنگٹن میں ایک ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔

صدر بش نے کہا کہ ایٹمی تنازعے کو سکیورٹی کونسل کے حوالے کرنا ہی اگلا قدم ہے۔تاہم انہوں نے اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ ایران پر پابندیاں عائد ہونی چاہئیں یا نہیں۔ انہوں نے کہا: ’میں پہلے سے یہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ سکیورٹی کونسل کیا فیصلہ کیا کرے گی۔‘

اپنے پریس کانفرنس میں صدر بش نے یہ بھی کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں سے مسلح ایران اسرائیل کے لیے ایک خطرہ ہوگا۔

چانسلر مرکل نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ یورپی یونین اور امریکہ ایران کے معاملے پر مشترکہ طور پر کام کریں اور کوشش کریں کہ دوسرے ممالک کو بھی ایک مشترکہ موقف میں شمولیت کے لیے منایا جاسکے۔

ادھر ایرانی رہنما احمدی نژاد نے کہا ہے کہ ایٹمی تنازعے کو سکیورٹی کونسل کے حوالے کرنے کی دھمکی کے باوجود وہ ایران کے ایٹمی پروگرام پر ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

یورپی ممالک کی جانب سے اس معاملے کو سکیورٹی کونسل میں لے جانے کی تجویز کے بعد ایرانی صدر نے اپنے پہلے ردعمل میں کہا ہے کہ وہ ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹنے والے ہیں۔

واشنگٹن میں ملاقات کے دوران مرکل اور بش
جمعہ کو جنوبی ایران کے شہر بستک میں ایک دورے پر صدر احمدی نژاد نے ایران کے ایٹمی پروگرام کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا: ’ایران کسی بھی ملک سے خوفزدہ نہیں ہے اور ایٹمی توانائی کی پیداوار کے راستے پر چلتا رہے گا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت ایرانی عوام کے حقوق کے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

اس سے پہلے ایران نے دھمکی جاری کی کہ اگر ایٹمی تنازعہ سکیورٹی کونسل کے حوالے کیا گیا تو ایرانی تنصیباب کی اقوام متحدہ کے اہلکاروں کے ذریعے نگرانی روک دی جائی گی۔

جمعرات کو فرانس، برطانیہ اور جرمنی کے وزرائے خارجہ نے کہا تھا کہ اس تنازعے پر سفارتکاری اب بندگلی میں پہنچ چکی ہے اور اب یہ معاملہ سکیورٹی کونسل کے سامنے پیش کیا جائے۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائیس نے یورپی موقف کی حمایت کی تھی۔

لیکن جمعہ کو اقوام متحدہ میں چین کے سفیر وانگ گوانگیا نے کہا کہ اس معاملے کو سکیورٹی کونسل کے حوالے کرنے سے یہ تنازعہ اور بھی پیچیدہ ہوجائے گا۔ تاہم چین اور روس کی جانب سے اس بات کے شارے مل رہے ہیں کہ وہ ایران پر دباؤ بنانا چاہتے ہیں۔

پیر کو یورپ، امریکہ، روس اور چین کے اہلکار لندن میں ملاقات کرنے والے ہیں جہاں ایک مشترکہ لائحۂ عمل پر گفتگو ہونے کی امید ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے کہا ہے کہ وہ چاہتے کہ یہ معاملہ اقوام متحدہ کے ایٹمی ادارے آئی اے ای اے میں ہی حل کرلیا جائے، اگر ممکن ہو تو۔ اس تنازعے کو سکیورٹی کونسل کے حوالے کرنے کے لیے آئی اے ای اے کے رکن ممالک کو ایک مشترکہ فیصلہ کرنا ہوگا۔

اسی بارے میں
رفسنجانی کا سخت ردِ عمل
11 January, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد