ایران تنازع بڑھا رہا ہے: امریکہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کی جانب سے یورینیم کی از سرِ نو افزودگی کے اعلان کے بعد عالمی سطح پر سخت ردِ عمل سامنے آیا ہے اور امریکہ نے کہا ہے کہ ایران کا معاملہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔ واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے ترجمان سکاٹ مکلیلن نے کہا ہے کہ اس صورتِ حال پر امریکہ اپنے حلیفوں سے مشاورت کر رہا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ایران پر ممکنہ پابندیاں لگانے کے لیے ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جانے کے سوائے عالمی برادری کے پاس اب کوئی راستہ نہیں بچا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے یورینیم کی افزودگی کے فیصلے نے اس تنازعے میں پھر سے شدت پیدا کر دی ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی دوبارہ شروع کرنے کے ضمن میں کوئی بھی قدم پیرس معائدے کی خلاف ورزی ہوگا جس پر ایران نے بھی دستخط کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا ’ایرانی حکومت کی جانب سے اس طرح کے اقدامات اس تنازعے کو بڑھانے کے مترادف ہیں۔ بین الاقوامی برادری کی اکثریت ایران سے کہہ رہی ہے کہ اگر اس نے سمجھداری کا مظاہرہ نہیں کیا تو اس معاملے کو سلامتی کونسل میں لے جانے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔‘ ادھر برطانیہ کے وزیر خارجہ جیک سٹرا نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کو سلامتی کونسل میں لے جانے کے ضمن میں بات چیت کے لیے فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ سے کل ملاقات کر رہے ہیں۔ روس نےبھی اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے کو سیاسی اور سفارتی انداز سے حل کیا جانا چاہیے۔ عالمی جوہری ادارے کے سربراہ محمد البرادعی نے کہا ہے کہ انہیں اس بات پر شدید تشویش ہے کہ ایران اپنے نیوکلیئر پروگرام کی معطلی ختم کر رہا ہے حالانکہ ابھی عالمی ادارے کے معائنہ کار اس پروگرام کی اصل حقیقت سے واقف ہی نہیں ہو سکے۔ مغربی ممالک کو تشویش ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے جبکہ ایران کا اصرار ہے کہ اس کا پروگرام مکمل طور پر پرامن ہے۔ اس معاملے پر اب یورپی اتحاد کے ممالک کا ایک اہم اجلاس جمعرات کو ہو رہا ہے۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||