’تحقیق ہر صورت جاری رہےگی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران نے کہا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں خدشات دور کرنے سے متعلق روس کے ساتھ مذاکرات کے نتائج سے قطع نظر یورانیم سے متعلق حالیہ تحقیقاتی پروگرام جاری رکھے گا۔ ماسکو میں ایران اور روسی حکام کے مابین ایک اور دن کے مذاکرات کے بعد بھی دونوں جانب کے حکام کا کہنا تھا کہ بات چیت ابھی جاری رہے گی۔ روس نے ایران کو پیشکش کی ہے کہ وہ یورانیم کی افزودگی کے لیے روس میں ان کی تنصیبات کا استعمال کرسکتے ہیں۔ یہ ایک ایسا سمجھوتہ ہے جس پر بالآخر امریکہ اور یورپی یونین نے رضامندی ظاہر کردی ہے۔ ایران سے باہر یورانیم افزودہ کرنے کا مجوزہ منصوبہ بنیادی طور پر روس ہی نے پیش کیا تھا تاکہ مغربی ممالک کے خدشات کو دور کیا جاسکے۔ روسی وزیر خارجہ سرگی ایوانوو نے کہا ہے کہ روس حلات کو ابتر ہونے سے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ منوچہر متقی سے برسلز میں ملاقات کے بعد یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے وزیر حاویار سولانا نے کہا تھا کہ ایران کو مزید تعمیری سوچ رکھنے کی ضرورت ہے۔ فروری کے آغاز میں اقوام متحدہ کے جوہری ادارے نے فیصلہ دیا تھا کہ ایران کا جوہری معاملہ سلامتی کونسل میں پیش کیا جائے گا۔ اقوام متحدہ کے لیے ایرانی وفد کے سربراہ نے اس فیصلے پر رد عمل میں کہا تھا کہ ایران فوری طور پر یورانیم کی افزودگی بھرپور طریقے سے شروع کردے گا۔ دوسری جانب تہران نے کہا تھا کہ اگر اس کا معاملہ سلامتی کونسل میں بھیجا گیا تو وہ اپنی جوہری سرگرمیوں کے سلسلے میں تمام تر تعاون ترک کردے گا، اور اس کے بعد کسی بھی سمجھوتے کے لیے رستہ بند ہوجائے گا۔ تہران کا ہمیشہ سے ہی یہ موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام محض پر امن مقاصد کے لیے ہے۔ ایران نے حال ہی میں یورانیم کی افزودگی پر تحقیق بحال کردی ہے جسے ماضی میں معطل کردیا گیا تھا۔ اگرچہ ایران ابھی پوری طرح سے یورانیم افزودہ نہیں کررہا تاہم مغربی قوتیں پھر بھی تشویش کا شکار ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کی جوہری تحقیق محض توانائی پیدا کرنے کے لیے ہے اور اس کا کوئی فوجی مقصد نہیں ہے۔ |
اسی بارے میں ایران کو سلامتی کونسل کا سامنا03 February, 2006 | آس پاس افزودگی شروع کردیں گے: ایران01 February, 2006 | آس پاس ایران کا فیصلہ کل ہو گا02 February, 2006 | آس پاس ویانا اجلاس: ایران کے معاملے پرغور02 February, 2006 | آس پاس ’معاملہ نازک ہے، بحرانی نہیں‘03 February, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||