سمجھوتے کے لیے تیار ہیں: ایران | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے اعلٰی مذاکرات کار علی لاری جانی نے کہا ہے کہ ان کا ملک جوہری پروگرام پر سمجھوتے کے لیے تیار ہے۔ لاری جانی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں بین الاقوامی برادری کی اس تشویش پر بات کرنے کو تیار ہیں کہ ایران مبینہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں ضمانت دے سکتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔ ایرانی مذاکرات کار نے کہا کہ انہیں حیرت ہے کہ برطانیہ نے ایران کی جانب سے مذاکرات کی تازہ پیشکش کو رد کردیا ہے۔ اس سے قبل بدھ کو امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ حاویار سولانا نے کہا تھا کہ ایران جب تک اس سلسلے میں کوئی نئی تجویز پیش نہیں کرتا تب تک اس سے مزید مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔ ادھر اقوام متحدہ کے ایٹمی ادارے آئی اے ای اے نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے جوہری تنازعے کے سلسلے میں دو فروری کو ادارے کا ہنگامی اجلاس ہو گا۔ برطانیہ، جرمنی اور فرانس نے ایک قرارداد کا مجوزہ متن جاری کیا ہے جس میں ایران کا جوہری تنازعہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جہاں ایران کو اپنی چند سرگرمیاں بند نہ کرنے کی صورت میں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ آئی اے ای اے یعنی انٹرنیشنل اٹامک انرجی کمیشن جوہری امور سے متعلق اقوام متحدہ کا نگران ادارہ ہے۔ اجلاس میں ’آئی اے ای اے‘ کے ممبران اس بات کا جائزہ لیں گے کہ آیا ایران کے معاملے کو سلامتی کونسل کے حوالے کیا جانا چاہیے یا نہیں۔ ایران کا کہنا تھا کہ مسئلے کے سلامتی کونسل کے حوالے کیے جانے کے امکانات بہت کم ہیں۔ فروری کے اس اجلاس میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی کوشش کریں گے کہ ایران کے تنازعے کو سلامتی کونسل کے حوالے کر دیا جائے جبکہ روس اور چین نے پیر کے روز لندن میں ہونے والے مذاکرات میں سخت اقدامات کی مخالفت کی ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ سمجھوتے کے امکانات اب بھی موجود ہیں جبکہ چین نے تمام فریقین پر مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔ واضح رہے کہ دونوں ملکوں کے پاس سلامتی کونسل میں کسی بھی قرارداد کو ویٹو کرنے کا اختیار ہے۔ ماسکو میں ایران کے سفیر نے کہا ہے کہ تنازعے کو اب بھی بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ یورپی ممالک کو جلد بازی نہیں کرنی چاہیے۔ تاہم انہوں نے مسئلے کے سلامتی کونسل میں نہ جانے کی امید کی وجہ نہیں بتائی۔ انہوں نے کہا کہ جوہری تحقیق اور جوہری ایندھن بنانا الگ الگ چیزیں ہیں۔ ایران نے دھمکی دی ہے کہ کسی قسم کی پابندیاں لگنے کی صورت میں وہ نہ صرف آئی اے ای اے کے ساتھ ہر قسم کا تعاون ختم کر دے گا بلکہ وہ دنیا کو تیل کی ترسیل بھی بند کر دے گا۔ |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||