پابندیاں بہتر حل نہیں: روس، چین | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس نے کہا ہے کہ تہران پر اقتصادی پابندیاں لگانا ایران کے مسئلے کا بہتر اور واحد حل نہیں ہے۔ روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ جوہری پروگرام سے متعلق بین الاقوامی تشویش کے بارے میں ایران کو قائل کرنے کے اور بھی طریقۂ کار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سمجھوتے کی پیشکش ابھی بھی موجود ہے جس کے تحت ایران افزودگی کے لیے یورینیم روس بھیج سکتا ہے۔ ادھر کانفرنس کے موقع پر ماضی میں ایران سے جوہری معاملات پر مذاکرات کرنے والے تین ملکوں جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے کہا کہ وہ جوہری توانائی کے عالمی ادارے آئی کے ای اے کا ایک ہنگامی اجلاس بلانے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ ایران کے حالیہ اقدامات پر مزید غور کیا جاسکے۔ اطلاعات کے مطابق تین یورپی ممالک آئی اے ای اے سے اپنا اجلاس شیڈول سے تقریباً ایک ماہ پہلے دو سے تین فروری کو منعقد کرنے کی درخواست کریں گے۔
آئی اے ای اے یہ معاملہ سلامتی کونسل میں بھیج سکتا ہے جو کہ ایران پر پابندیاں عائد کر سکتی ہے۔ تاہم چین ایران پر پابندیوں کی حمایت نہیں کرتا کیونکہ وہ ایران سے تیل کی ترسیل میں رکاوٹ کے خلاف ہے۔ چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تہران اور یورپی یونین میں معطل مذاکارت کی بحالی کے لیے سب فریقوں کو اپنی پوری کوشش کرنی چاہیئے اور تحمل سے کام لینا چاہیئے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا پرورگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل اراکین کے علاوہ جرمنی نے لندن میں ہونے والی اس کانفرنس میں شرکت کی۔ کانفرنس کے بعد امریکہ کے نائب وزیر خارجہ نکولس برنز نے کہا کہ امریکہ اس بات کا پوری طرح سے قائل ہے کہ ایران بین الاقوامی برادری کے لیے ایک خطرہ ہے۔ |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||