برادعی: میرا صبر جواب دے رہا ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایٹمی کنٹرول کے عالمی ادارے کے سربراہ محمد البرادعی نے کہا ہے کہ وہ یقین کے ساتھ نہیں سکتے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام پر امن ہے۔ نیوز ویک میگزین کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ تین برس کی چھان بین کے بعد بھی وہ اس نتیجے پر نہیں پہنچے کہ ایران کا جوہری پروگرام صرف اور صرف پر امن مقاصد کے لئے ہے اور نہ کہ جوہری ہتھیار بنانے کے لئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔ دریں اثنا عالمی طاقتیں لندن میں یہ طے کرنے کے لئے مل رہی ہیں کہ ایران کے ساتھ کس طرح نمٹا جائے۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، چین اور جرمنی اس موضوع پر گفتگو کریں گے کہ ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ان کا اگلا قدم کیا ہوگا۔ وہ ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں کے امکان پر بھی غور کریں گے۔ ایران اس بات سے انکار کرتا رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی تگ و دو میں ہے، تاہم اس کا کہنا ہے وہ بین القوامی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔ دوسری طرف چند امریکی سیاست دانوں نے اس بات کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا ہے کہ ایران کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ سینئیر ریپبلِکن سینیٹر جان مکین نے کہا ہے کہ (ایران کے خلاف) حملہ آخری راستہ ہے تاہم اس کو خارج از امکان کہنا پاگل پن ہوگا۔
ایران ہمیشہ سے کہتا رہا ہے کہ اسکا جوہری پروگرام پر امن ہے اور وہ نیوکلیائی ہتھیار بنانے کے لئے کوشاں نہیں ہے۔ برادئی نے کہا کہ ملک سے معائنہ کاروں کو نکالنے کی دھمکی ایران کے حق میں نہیں ہوگی۔ |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||