ایران کے جوہری پروگرام پر تشویش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی حکومت کے مطابق لندن میں ایران کے جوہری پروگرام پر ہونے والی کانفرنس میں شریک دنیا کہ چھ بڑے ملکوں نے ایران کی طرف سے جوہری پروگرام کو دوبارہ شروع کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ برطانوی دفتر خارجہ کے ایک ترجمان کے مطابق کانفرنس میں شریک چھ ملکوں نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا ہے کہ ایران کو فوری طور پر اپنے جوہری پروگرام کو بند کرے۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل اراکین کے علاوہ جرمنی نے لندن میں ہونے والی اس کانفرنس میں شرکت کی۔ کانفرنس کے بعد امریکہ کے نائب وزیر خارجہ نکولس برنز نے کہا کہ امریکہ اس بات کا پوری طرح سے قائل ہے کہ ایران بین الاقوامی برادری کے لیے ایک خطرہ ہے۔ کانفرنس کے موقع پر ماضی میں ایران سے جوہری معاملات پر مذاکرات کرنے والے تین ملکوں جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے کہا کہ وہ جوہری توانائی کے عالمی ادارے آئی کے ای اے کا ایک ہنگامی اجلاس بلانے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ ایران کے حالیہ اقدامات پر مزید غور کیا جاسکے۔ اطلاعات کے مطابق تین یورپی ممالک آئی اے ای اے سے اپنا اجلاس شیڈول سے تقریباً ایک ماہ پہلے دو سے تین فروری کو منعقد کرنے کی درخواست کریں گے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں ایران کے خلاف پابندیاں عائد ہو سکتی ہیں۔ تاہم چین ایران پر پابندیوں کی حمایت نہیں کرتا کیونکہ وہ ایران سے تیل کی ترسیل میں رکاوٹ کے خلاف ہے۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||