BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 17 January, 2006, 15:17 GMT 20:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران نے 9 عراقی محافظ پکڑ لیے
شط العرب
شط العرب کے مسئلے پر ایران عراق مںی جنگ ہو چکی ہے
ایران عراق سرحد پر واقع شط العرب کے پانیوں میں مدبھیڑ کے بعد ایرانی اہلکاروں نے نو عراقی ’ کوسٹ گارڈز‘ کوحراست میں لے لیا ہے۔

بصرہ کے گورنر محمد الولی کا کہنا ہے کہ ایرانی بحریہ کے اہلکاروں نے تیل کی سمگلنگ کے شبہ میں ایک ایرانی کشتی کی تلاشی لینے والے عراقی کوسٹ گاڈز پر حملہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حملے میں ایک عراقی محافظ ہلاک بھی ہوا ہے تاہم عراق نے اس ہلاکت کی تصدیق نہیں کی ہے۔

عراق کی سرحدی فوج کے کمانڈر عباس موساوی نے مطالبہ کیا ہے کہ زیر حراست افراد کو جلد از جلد رہا کیا جائے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا ’ہم ایرانی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ہمارے کوسٹ گارڈز کو رہا کردے جنہیں بغیر کسی وجہ کے شط العرب کے عراقی حصے سے پکڑا گیا ہے۔ یہ افراد شط العرب میں اپنے معمول کے قانونی فرائض ادا کررہے تھے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب عراقی کوسٹ گارڈز بصرہ سے قریباً پینتالیس کلومیٹر کے فاصلے پر تیل سمگل کرنے کی کوشش میں مصروف نور ون نامی ایرانی جہاز پر چڑھے۔ انہوں نے کہا کہ ’جب ہماری بحریہ کے اہلکار جہاز پر سوار ہوئے تو انہیں معلوم ہوا کہ جہاز ران ایرانی تھا جس نے ایرانی فوجیوں کو اس کارروائی سے آگاہ کردیا‘۔

ایران عراق کے درمیان واقع پانی کا یہ قطعہ واضح طور پر سرحد کی نشاندہی نہیں کرتا جس کے باعث یہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا باعث ہے اور یہی کشیدگی انیس سو اسی میں ایران عراق جنگ کا باعث بنی تھی۔

اسی بارے میں
ایران عراق جنگ کے پچیس سال
22 September, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد