ایران نے 9 عراقی محافظ پکڑ لیے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران عراق سرحد پر واقع شط العرب کے پانیوں میں مدبھیڑ کے بعد ایرانی اہلکاروں نے نو عراقی ’ کوسٹ گارڈز‘ کوحراست میں لے لیا ہے۔ بصرہ کے گورنر محمد الولی کا کہنا ہے کہ ایرانی بحریہ کے اہلکاروں نے تیل کی سمگلنگ کے شبہ میں ایک ایرانی کشتی کی تلاشی لینے والے عراقی کوسٹ گاڈز پر حملہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حملے میں ایک عراقی محافظ ہلاک بھی ہوا ہے تاہم عراق نے اس ہلاکت کی تصدیق نہیں کی ہے۔ عراق کی سرحدی فوج کے کمانڈر عباس موساوی نے مطالبہ کیا ہے کہ زیر حراست افراد کو جلد از جلد رہا کیا جائے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا ’ہم ایرانی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ہمارے کوسٹ گارڈز کو رہا کردے جنہیں بغیر کسی وجہ کے شط العرب کے عراقی حصے سے پکڑا گیا ہے۔ یہ افراد شط العرب میں اپنے معمول کے قانونی فرائض ادا کررہے تھے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب عراقی کوسٹ گارڈز بصرہ سے قریباً پینتالیس کلومیٹر کے فاصلے پر تیل سمگل کرنے کی کوشش میں مصروف نور ون نامی ایرانی جہاز پر چڑھے۔ انہوں نے کہا کہ ’جب ہماری بحریہ کے اہلکار جہاز پر سوار ہوئے تو انہیں معلوم ہوا کہ جہاز ران ایرانی تھا جس نے ایرانی فوجیوں کو اس کارروائی سے آگاہ کردیا‘۔ ایران عراق کے درمیان واقع پانی کا یہ قطعہ واضح طور پر سرحد کی نشاندہی نہیں کرتا جس کے باعث یہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا باعث ہے اور یہی کشیدگی انیس سو اسی میں ایران عراق جنگ کا باعث بنی تھی۔ | اسی بارے میں عراق کی سعودی عرب سے معافی04 October, 2005 | آس پاس ’اونٹ پر بیٹھے بدو مشورے نہ دیں ‘03 October, 2005 | آس پاس ایران عراق جنگ کے پچیس سال22 September, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||