کردوں کی نسل کشی ہوئی: عدالت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہیگ میں ایک عدالت نے کہا ہے کہ انیس سو اسی کے عشرے میں عراق کے شہر حلبجہ میں ہزاروں کردوں کی ہلاکت در حقیقت نسل کشی کی کوشش تھی۔ عدالت نے ان خیالات کا اظہار ہالینڈ کے ایک تاجر کے مقدمے کے دوران کیا جن پر صدام حسین کی حکومت کو مہلک کیمیکل فراہم کرنے کا الزام ہے۔ ملزم فرانس وان انرات پر الزام ہے کہ انہوں نے 1988 میں حلبجہ میں کیے گئے کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے لیے مواد فراہم کیا تھا۔ اس حملے میں پانچ ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ کردوں کے خلاف ایران عراق جنگ میں ہونے والے جنگی جرائم کا پہلا مقدمہ ہے۔ مقدمہ کے ملزم نے تسلیم کیا کہ انہوں نے کیمیکل فراہم کیے تھے لیکن ان کا کہنا ہے کہ انہیں ان کے استعمال کے بارے میں علم نہیں تھا۔ ملزم کے وکیل نے عدالت میں دلیل پیش کی کہ یہ مقدمہ ناقابل سماعت ہے کیونکہ ان الزامات کے مرکزی ملزم صدام حسین بغداد میں مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں۔ تریسٹھ سالہ وان انرات پر الزام ہے کہ انہوں نے عراق ایران جنگ کے دوران اور عراقی کردوں کے خلاف مبینہ طور پر استعمال کیے جانے والے کیمیائی ہتھیاروں کے لیے خام مال مہیا کیا۔
سرکاری وکیل کا کہنا ہے کہ انہوں نے 1984 میں اس کیمیکل کی برآمد پر پابندی کے باوجود عراق کو خام مال کی فراہمی جاری رکھی۔ جرم ثابت ہونے کی صورت میں انہیں پندرہ سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ دو سال قبل ایک انٹرویو کے دوران بھی انہوں نے عراقی حکومت کو کیمیکل فراہم کرنے کے بارے میں یہی کہا تھا کہ انہیں یہ علم نہیں تھا کہ اس کو زہریلی گیسیں بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ وان انرات کو انیس سو نواسی میں امریکی حکومت کی درخواست پر اٹلی سے گرفتار کیا گیا۔ تاہم بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا۔ رہائی کے بعد وہ عراق چلے گئے اور دو ہزار تین تک وہاں رہے۔ دو ہزار تین میں عراق پر امریکی حملے کے بعد وان ہالینڈ واپس چلے گئے جہاں سے انہیں دسمبر دو ہزار چار میں گرفتار کیا گیا۔ |
اسی بارے میں قومی تضحیک: سماعت رُک گئی16 December, 2005 | آس پاس شیطان سے پناہ پرجذبات مجروح 10 August, 2005 | آس پاس عراق: اجتماعی قبر میں سینکڑوں دفن01 May, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||