مجھ پر تشدد کیا گیا: صدام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے معزول صدر صدام حسین نے عدالت میں بیان دیا ہے کہ امریکیوں نے ان پر تشدد کیا ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ’میرے جسم کے ہر حصے پر تشدد کیا گیا ہے جس کے نشانات میرے سارے جسم پر موجود ہیں‘۔ امریکی سفارت خانے سے کرسٹوفر ریڈ نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ صدام حسین کو 1982 میں شیعہ آبادی والے گاؤں دجیل میں ایک سو اڑتالیس افراد کے قتل کے مقدمے کا سامنا ہے۔ دوران سماعت انہوں نے ان ہلاکتوں کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ سرکاری وکیل نے ان کے تشدد کے الزام پر تنقید کی اور کہا کہ انہیں ائرکنڈیشنڈ کمرے میں رکھا گیا ہے جبکہ کئی عراقیوں کے پاس بجلی کی سہولت بھی موجود نہیں ہے۔ بدھ کو سماعت کے دوران صدام حسین زیادہ دیر خاموش رہے۔ اس دوران دو گواہوں نے ان کے اور ان کے ساتھیوں کے خلاف اپنے بیانات قلمبند کروائے۔ گواہوں کا کہنا تھا کہ صدام کے سوتیلے بھائی اور اُس وقت کے انٹیلیجنس کے سربراہ برزن التکرتی جو کہ ملزمان میں شامل ہیں ان پر تشدد کے دوران موجود تھے۔ انہوں نے عدالت کو بجلی کے جھٹکوں اور پگھلے ہوئے پلاسٹک کو جلد پر ڈالے جانے سمیت تشدد کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔
اس سے پہلے صدام حسین نے عدالت کی کارروائی کا بائیکاٹ کر رکھا تھا اور اسے غیر منصفانہ قرار دیا تھا۔ خیال ہے کہ معزول صدر کو اس مقدمے کے علاوہ بھی عراقیوں پر تشدد کے دیگر الزامات کا سامنا کرنا ہو گا۔ مقدمے کی سماعت کل بھی جاری رہے گی اور اس کے بعد آئندہ سماعت جنوری کے وسط تک مؤخر ہونے کی توقع ہے۔ اس مقدمے میں اگر صدام حسین مجرم قرار پائے تو انہیں سزائے موت بھی ہو سکتی ہے۔ |
اسی بارے میں عراق: اختیارات کےحصول کی دوڑ 19 December, 2005 | آس پاس بغداد: پانچ ہلاک، نائب گورنر زخمی 19 December, 2005 | آس پاس ’عراق سے فوری واپسی خطرناک ہے‘19 December, 2005 | آس پاس ’تاریخی‘ انتخابات پر خراجِ تحسین16 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||