BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 December, 2005, 03:35 GMT 08:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’تاریخی‘ انتخابات پر خراجِ تحسین
عراقی الیکشن
ایک مسلح امریکی فوجی عراقی ووٹر کی تصویر اتار رہا ہے
لاکھوں عراقیوں نے امریکی حملے کے بعد پہلی مرتبہ ایک کل مدتی حکومت منتخب کرنے کے لیے بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے ہیں۔

پوری دنیا سے عراق اور عراقی عوام کو بڑی تعداد میں ووٹنگ میں حصہ لینے پر مبارکبادیں وصول ہو رہی ہیں۔

امریکی صدر جارج بش نے ووٹنگ کو تاریخی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ ٹرن آؤٹ زیادہ رہا اور تشدد میں کمی رہی۔

عراق کے عبوری وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ وہ خیال کرتے ہیں کہ نئی حکومت جلد بنا لی جائے گی۔

بہت سارے عوام کے ووٹ ڈالنے کے لیے آنے کی وجہ سے ووٹنگ کے اوقات میں توسیع کر دی گئی تھی۔

کئی تشدد آمیز واقعات کی اطلاعات تو ملیں جیسا کہ ماٹر فائر اور راکٹ حملے لیکن ووٹنگ معطل نہیں کی گئی۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے کہا ہے کہ ابھی تک ووٹنگ کا عمل بڑے بہتر طریقے سے انجام پا رہا ہے۔ انہوں نے تمام عراقیوں سے کہا کہ وہ ووٹنگ کے نتائج قبول کر لیں۔

عراقی الیکشن کمیشن کے مطابق پولنگ سٹیشنوں میں ووٹروں کی بڑی تعداد کی موجودگی کی وجہ سے بعض جگہوں پر ووٹنگ کے وقت میں ایک گھنٹے کا اضافہ کیا گیا۔

عراقی الیکشن کمیشن کے سربراہ حسن ہندوی نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق ووٹنگ کے پہلے دس گھنٹوں میں دس ملین افراد نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا جو کہ مجموعی ووٹروں کا سڑسٹھ فیصد ہے۔


عراق میں پندرہ ملین افراد ووٹ دینے کے اہل ہیں اور انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی کل تعداد کے بارے میں ووٹوں کی مکمل گنتی کے بعد ہی پتہ چل سکے گا۔

برطانوی وزیرِ خارجہ جیک سٹرا نے برسلز سے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ عراق کے لیے ایک بڑا دن ہے اور عراقی عوام نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ جمہوری حکومت چاہتے ہیں جبکہ روسی وزارتِ خارجہ کے ترجمان میخائل کیمینن نے عراقی انتخابات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ عراقی تاریخ کے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔

عراق کی سنّی العقیدہ آبادی نے بھی ان انتخابات میں بھرپور انداز سے شرکت کی اور مزاحمت کاروں کے اثر والے علاقوں فلوجہ اور رمادی میں بھی بڑی تعداد میں لوگ ووٹ ڈالنے آئے۔ یاد رہے کہ سنّی عرب اقلیت نے جنوری میں نگران پارلیمان کے انتخاب کے لیے ہونے والے الیکشن کا عام طور پر بائیکاٹ کیا تھا۔

سنّی قومیت پسند مزاحمت کار گروہوں نے بھی سنّی آبادی پر زور دیا تھا کہ وہ انتخابات میں شریک ہوں تاکہ شیعوں اور کردوں کی اکثریتی حکومت قائم نہ ہو سکے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد