عراقی الیکشن،’ہائی ٹرن آؤٹ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی عوام نے امریکی حملے کے بعد پہلی مرتبہ ایک کل مدتی حکومت منتخب کرنے کے لیے بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے ہیں۔ عراقی الیکشن کمیشن کے مطابق پولنگ سٹیشنوں میں ووٹروں کی بڑی تعداد کی موجودگی کی وجہ سے بعض جگہوں پر ووٹنگ کے وقت میں ایک گھنٹے کا اضافہ کیا گیا۔ عراقی الیکشن کمیشن کے سربراہ حسن ہندوی نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق ووٹنگ کے پہلے دس گھنٹوں میں دس ملین افراد نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا جو کہ مجموعی ووٹروں کا سڑسٹھ فیصد ہے۔ عراق میں پندرہ ملین افراد ووٹ دینے کے اہل ہیں اور انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی کل تعداد کے بارے میں ووٹوں کی مکمل گنتی کے بعد ہی پتہ چل سکے گا۔ امریکہ اور یورپی ممالک نے عراق میں انتخابات کے انعقاد کا خیر مقدم کیا ہے۔ صدر بش کے ترجمان سکاٹ مکلین نے انتخابات کے پرامن انعقاد پر کہا کہ ’ یہ عراقی عوام کی آزادی کی جانب تاریخی قدم ہے‘۔ برطانوی وزیرِ خارجہ جیک سٹرا نے برسلز سے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ عراق کے لیے ایک بڑا دن ہے اور عراقی عوام نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ جمہوری حکومت چاہتے ہیں جبکہ روسی وزارتِ خارجہ کے ترجمان میخائل کیمینن نے عراقی انتخابات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ عراقی تاریخ کے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ بغداد کے ایک پولنگ سٹیشن پر موجود ایک شیعہ ووٹر محمد احمد البیاتی کا کہنا تھا کہ’ یہ یومِ فتح ہے۔ آزادی اور خودمختاری کا دن‘۔ فلوجہ کے ایک استاد خالد فواز نے کہا کہ ’میں اس لیے ووٹ دے رہا ہوں کہ کہیں سنّیوں کو نظرانداز نہ کیا جائے‘۔ عراق کی سنّی العقیدہ آبادی نے بھی ان انتخابات میں بھرپور انداز سے شرکت کی اور مزاحمت کاروں کے اثر والے علاقوں فلوجہ اور رمادی میں بھی بڑی تعداد میں لوگ ووٹ ڈالنے آئے۔ یاد رہے کہ سنّی عرب اقلیت نے جنوری میں نگران پارلیمان کے انتخاب کے لیے ہونے والے الیکشن کا عام طور پر بائیکاٹ کیا تھا۔ سنّی قومیت پسند مزاحمت کار گروہوں نے بھی سنّی آبادی پر زور دیا تھا کہ وہ انتخابات میں شریک ہوں تاکہ شیعوں اور کردوں کی اکثریتی حکومت قائم نہ ہو سکے۔ مجموعی طور پر ووٹنگ پرامن رہی تاہم کچھ علاقوں تشدد کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ پولنگ کے آغاز کے کچھ دیر بعد بغداد کے گرین زون میں ایک دھماکہ بھی ہوا جس میں دو شہری اور ایک امریکی فوجی معمولی زخمی ہوئے۔ یاد رہے کہ القاعدہ نے عراق میں الیکشن کو رد کر دیا تھا اور اسے شیطان کا کام قرار دیتے ہوئے حملوں کی دھمکی دی تھی۔ ان انتخابات کے موقع پر ملک بھر میں ڈیڑھ لاکھ عراقی فوجی اور پولیس اہلکاروں کو حفاظتی انتظامات کے لیے متعین کیا گیا تھا اور عراقی سرحدوں کو سیل کرنے کے علاوہ ہوائی اڈوں کو بھی بند کر دیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں عراقی پارلیمان کے لیے ووٹنگ، دھماکے15 December, 2005 | آس پاس عراق: مضبوط قیادت کی خواہش 15 December, 2005 | آس پاس عراق میں ووٹنگ کے آغاز پر دھماکہ 15 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||