عراق میں ووٹنگ کے آغاز پر دھماکہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی عام انتخابات میں ووٹنگ شروع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد ایک زور دار دھماکہ ہوا ہے۔ تاہم ابھی تک دھماکے کی تفصیلات نہیں آئی ہیں۔ ان انتخابات میں عراقی عوام سن 2003 میں امریکہ کی سالاری میں اتحادیوں کے قبضے کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ کسی عراقی حکومت کو مکمل مدت، یعنی چار سال کے لیے، منتخب کریں گے۔ عراق میں ووٹنگ عراقی وقت کے مطابق صبح سات بجے (برطانوی وقت کے مطابق صبح چار بجے) شروع ہوئی۔ عراق کے صدر جلال الطالبانی نے عراقی عوام سے کہا ہے کہ انتخابات کے دن کو اتحاد اور ئوشیوں کا دن بنائیں۔ انتخابات میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار جون لیئن کا کہنا ہے کہ ان انتخابات میں سنی مسلمانوں کی شمولیت کی زیادہ توقع ہے۔ نامہ نگار کے مطابق گزشتہ انتخابات کی نسبت اس مرتبہ زیادہ ٹرن آؤٹ کی بھی توقع کی جا رہی ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ منتخب حکومت ایک مختلف حکومت ہو گی جس میں شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد پہلے کی نسبت کم ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تشدد کے واقعات بھی گزشتہ انتخابات سے پہلے کی نسبت کم ہیں۔ کئی مزاحمتی گروہ بھی لوگوں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ ووٹ ڈالیں۔ اگرچہ القاعدہ نے انتخابات کو شیطان کا کام کہا ہے۔ عراق الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ جمعرات کے انتخابات کے لیے چھ ہزار چھ سو پینسٹھ امیدوار، تین سو سات انتخابی پارٹیاں، اور انیس اتحادوں نے اندراج کروایا ہے۔
خودکش کار بم حملوں کے خطروں کے پیشِ نظر شہر میں نجی اور کمرشل گاڑیوں کی آمدورفت پر پابندی لگا دی گئی ہے اور شہر میں رات کے وقت کرفیو لگا دیا گیا ہے۔ ملک میں ایک لاکھ پچاس ہزار فوجی گشت کر رہے ہیں اور دوسرے ممالک کے ساتھ عراق کی سرحدیں بند کر دی گئی ہیں۔ ادھر پولنگ سے صرف اڑتالیس گھنٹے پہلے ایک سرکردہ سنی عرب رہنما کو قتل کر دیا گیا تھا۔ عراقی فری پروگریسیو پارٹی کے رہنما مزھر الدلیمی کو مغربی عراق کے قصبے رمادی میں اپنی انتخابی مہم کے دوران قتل کیا گیا۔ انہوں نے ایک روز قبل عراقی ٹیلی ویژن پر عراقیوں سے اپیل کی تھی کہ وہ پولنگ میں بھرپور حصہ لیں۔ عراق میں عام انتخابات سے پہلے سلامتی کی صورتحال کے پیش نظر پانچ روزہ تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ انڈیپنڈنٹ الیکٹورل کمیشن کے ترجمان فرید عیار کا کہنا ہے کہ تارکین وطن کے ووٹ اہم ہیں۔ بیرون ملک ووٹنگ پروگرام کے چیئرمین حمدیہ الحسینی نے توقع ظاہر کی ہے کہ جنوری کے مقابلے میں اس بار تارکین وطن کی بڑی تعداد ووٹنگ میں حصہ لے گی۔ | اسی بارے میں ناقص انٹیلیجنس پر بش کا اعتراف14 December, 2005 | آس پاس عراقی تارکین وطن کی ووٹنگ شروع14 December, 2005 | آس پاس حالات بدتر، لیکن عراقی پُرامید12 December, 2005 | آس پاس مشتبہ دہشت گرد کی اپیل07 December, 2005 | آس پاس جہنم میں جاؤ: صدام حسین07 December, 2005 | آس پاس عراق میں امریکی فوج کا پروپیگینڈا02 December, 2005 | آس پاس مکمل فتح سے کم کچھ بھی نہیں: بش30 November, 2005 | آس پاس خفیہ جیلیں: امریکہ تحقیق کرے گا29 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||