BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 07 December, 2005, 05:33 GMT 10:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جہنم میں جاؤ: صدام حسین
معذول عراقی رہنما کئی بار غصے میں بھڑک اٹھے
عراق کے معذول رہنما صدام حسین نے اپنی سماعت کے بائیکاٹ کی دھمکی دی ہے۔ منگل کے روز دوسرے دن کی سماعت کے اختتام پر انہوں نے ججوں سے کہا: ’جہنم میں جاؤ۔‘

سماعت کا دوسرا دن جذباتی ثابت ہوا۔ شہادت دینے والی ایک خاتون نے خصوصی عدالت کو بتایا کہ جب وہ سولہ سال کی تھیں تو انہیں اٹھالیا گیا اور ان کی زندگی تباہ ہوگئی۔

صدام حسین اور ان کے سات سابق مشیر انیس سو بیاسی میں دجیل میں ایک سو اڑتالیس شیعہ مسلمانوں کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار کررہے ہیں۔

دجیل میں ہلاکتیں صدام حسین پر ایک قاتلانہ حملے کے بعد پیش آئی تھیں۔

منگل کے روز سماعت کے اختتام پر، جج نے فیصلہ کیا کہ بدھ کے روز سماعت جاری رہے گی تاکہ دجیل کی ہلاکتوں کے دو عینی شاہدین کی گواہی سنی جاسکے۔

صدام حسین کے وکلاء نے عدالت سے ایک طویل وقفے کی درخواست کی تھی لیکن جج نے ان کی درخواست مسترد کردی۔

اس پر سابق عراقی رہنما صدام حسین جج پر چیخ پڑے: ’میں واپس نہیں آؤں گا۔ میں ایک غیرمنصفانہ عدالت میں نہیں آؤں گا۔ جہنم میں جاؤ!‘

ایک عراقی وکیل باسم الخلیلی نے خبررساں ادارے اے پی کو بتایا کہ عدالت صدام حسین کے نہ چاہنے کے باوجود انہیں سماعت کے لیے حاضر کراسکتی ہے۔

اس سے قبل سماعت کے دوران ہی معذول عراقی رہنما نے امریکہ پر سماعت کی جگہ ایک ’ڈرامہ‘ رچانے کا الزام لگایا اور کہا: ’امریکی اور اسرائیلی صدام حسین کی پھانسی چاہتے ہیں۔‘

خاتون کی شہادت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صدام حسین نے کہا کہ ’انہیں میرا پنجرہ دیکھنا چاہئے۔‘ ایک بار صدام حسین اتنا غصہ ہوگئے کہ انہوں نے جج کی طرف ’انگلی‘ کی نشان بنائی۔

پھر صدام حسین نے جج سے کہا کہ وہ ان حالات کی تفتیش کا حکم دیں جن میں انہیں رہنا پڑرہا ہے۔ انہوں نے کہا: ’یہ آپ کی ڈیوٹی ہے کہ جرائم کی تفتیش کریں جب وہ سرزد ہورہی ہیں۔‘

گواہ دینے والی پہلی خاتون نے، جن کی ’وِٹنیس اے‘ کے نام سے نشاندہی کی گئی ہے، کہ انہیں دجیل سے حراست میں لے لیا گیا تھا اور ایک سکیورٹی ایجنٹ نے انہیں کپڑے اتارنے پر مجبور کردیا۔

خاتون نے سسکتے ہوئے اپنے الفاظ عدالت کے سامنے رکھے: ’اس نے میری ٹانگیں اٹھادیں اور میری ہاتھوں کو باندھ دیا۔ وہ مجھے بجلی کے جھٹکے دیتا رہا اور مجھے مارتا رہا۔‘

خاتون شاہد نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد چار سال تک انہیں ابوغریب جیل میں رکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے کئی رشتہ داروں کو بھی حراست میں لیا گیا تھا۔

لیکن جج کے پوچھنے پر خاتون دفاع کرنے والوں میں سے کسی خاص شخص پر الزام نہ لگاسکیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ صدام حسین اس سب کچھ کے لیے ذمہ دار ہیں کیوں کہ وہ ملک چلا رہے تھے۔

بعد میں وِٹنیس بی کے نام سے گواہی دینے والی ایک عمر رسیدہ خاتون نے عدالت کو بتایا کہ انہیں ان کے شوہر، پانچ بیٹیوں اور دو بیٹوں کے ساتھ حراست میں لے لیا گیا تھا۔

وِٹنیس سی کے طور پر پہچانی جانے والی ایک تیسری خاتون نے عدالت کو بتایا کہ انہیں سکیورٹی فورسز نے ان کے والدین اور دو بہنوں کے ساتھ حراست میں لیا جو اس وقت شیرخوار بچیاں تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں گیارہ ماہ ابوغریب جیل میں رہنا پڑا جہاں سر میں شدید پٹائی کی وجہ سے ان کے والد چل بسے۔

سابق عراقی رہنما صدام حسین سماعت کے دوران بیشتر خاموش بیٹھے رہے لیکن ایک وقت وِٹنیس سی کی شہادت پر انہوں نے سوال کیا۔ ’آپ کو یہ سب باتیں کیسے یاد ہیں؟‘

خاتون نے جواب دیا: ’یہ میرے لیے عظیم صدمہ تھا اور میں اس صدمے کو بھول نہیں سکتی۔‘

اسی بارے میں
دجیل میں کیا ہوا؟
28 November, 2005 | آس پاس
صدام عدالت میں گرجتے رہے
28 November, 2005 | آس پاس
دجیل قتلِ عام پر گواہی
05 December, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد