جہنم میں جاؤ: صدام حسین | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے معذول رہنما صدام حسین نے اپنی سماعت کے بائیکاٹ کی دھمکی دی ہے۔ منگل کے روز دوسرے دن کی سماعت کے اختتام پر انہوں نے ججوں سے کہا: ’جہنم میں جاؤ۔‘ سماعت کا دوسرا دن جذباتی ثابت ہوا۔ شہادت دینے والی ایک خاتون نے خصوصی عدالت کو بتایا کہ جب وہ سولہ سال کی تھیں تو انہیں اٹھالیا گیا اور ان کی زندگی تباہ ہوگئی۔ صدام حسین اور ان کے سات سابق مشیر انیس سو بیاسی میں دجیل میں ایک سو اڑتالیس شیعہ مسلمانوں کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار کررہے ہیں۔ دجیل میں ہلاکتیں صدام حسین پر ایک قاتلانہ حملے کے بعد پیش آئی تھیں۔ منگل کے روز سماعت کے اختتام پر، جج نے فیصلہ کیا کہ بدھ کے روز سماعت جاری رہے گی تاکہ دجیل کی ہلاکتوں کے دو عینی شاہدین کی گواہی سنی جاسکے۔ صدام حسین کے وکلاء نے عدالت سے ایک طویل وقفے کی درخواست کی تھی لیکن جج نے ان کی درخواست مسترد کردی۔ اس پر سابق عراقی رہنما صدام حسین جج پر چیخ پڑے: ’میں واپس نہیں آؤں گا۔ میں ایک غیرمنصفانہ عدالت میں نہیں آؤں گا۔ جہنم میں جاؤ!‘ ایک عراقی وکیل باسم الخلیلی نے خبررساں ادارے اے پی کو بتایا کہ عدالت صدام حسین کے نہ چاہنے کے باوجود انہیں سماعت کے لیے حاضر کراسکتی ہے۔ اس سے قبل سماعت کے دوران ہی معذول عراقی رہنما نے امریکہ پر سماعت کی جگہ ایک ’ڈرامہ‘ رچانے کا الزام لگایا اور کہا: ’امریکی اور اسرائیلی صدام حسین کی پھانسی چاہتے ہیں۔‘ خاتون کی شہادت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صدام حسین نے کہا کہ ’انہیں میرا پنجرہ دیکھنا چاہئے۔‘ ایک بار صدام حسین اتنا غصہ ہوگئے کہ انہوں نے جج کی طرف ’انگلی‘ کی نشان بنائی۔ پھر صدام حسین نے جج سے کہا کہ وہ ان حالات کی تفتیش کا حکم دیں جن میں انہیں رہنا پڑرہا ہے۔ انہوں نے کہا: ’یہ آپ کی ڈیوٹی ہے کہ جرائم کی تفتیش کریں جب وہ سرزد ہورہی ہیں۔‘ گواہ دینے والی پہلی خاتون نے، جن کی ’وِٹنیس اے‘ کے نام سے نشاندہی کی گئی ہے، کہ انہیں دجیل سے حراست میں لے لیا گیا تھا اور ایک سکیورٹی ایجنٹ نے انہیں کپڑے اتارنے پر مجبور کردیا۔ خاتون نے سسکتے ہوئے اپنے الفاظ عدالت کے سامنے رکھے: ’اس نے میری ٹانگیں اٹھادیں اور میری ہاتھوں کو باندھ دیا۔ وہ مجھے بجلی کے جھٹکے دیتا رہا اور مجھے مارتا رہا۔‘ خاتون شاہد نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد چار سال تک انہیں ابوغریب جیل میں رکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے کئی رشتہ داروں کو بھی حراست میں لیا گیا تھا۔ لیکن جج کے پوچھنے پر خاتون دفاع کرنے والوں میں سے کسی خاص شخص پر الزام نہ لگاسکیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ صدام حسین اس سب کچھ کے لیے ذمہ دار ہیں کیوں کہ وہ ملک چلا رہے تھے۔ بعد میں وِٹنیس بی کے نام سے گواہی دینے والی ایک عمر رسیدہ خاتون نے عدالت کو بتایا کہ انہیں ان کے شوہر، پانچ بیٹیوں اور دو بیٹوں کے ساتھ حراست میں لے لیا گیا تھا۔ وِٹنیس سی کے طور پر پہچانی جانے والی ایک تیسری خاتون نے عدالت کو بتایا کہ انہیں سکیورٹی فورسز نے ان کے والدین اور دو بہنوں کے ساتھ حراست میں لیا جو اس وقت شیرخوار بچیاں تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں گیارہ ماہ ابوغریب جیل میں رہنا پڑا جہاں سر میں شدید پٹائی کی وجہ سے ان کے والد چل بسے۔ سابق عراقی رہنما صدام حسین سماعت کے دوران بیشتر خاموش بیٹھے رہے لیکن ایک وقت وِٹنیس سی کی شہادت پر انہوں نے سوال کیا۔ ’آپ کو یہ سب باتیں کیسے یاد ہیں؟‘ خاتون نے جواب دیا: ’یہ میرے لیے عظیم صدمہ تھا اور میں اس صدمے کو بھول نہیں سکتی۔‘ | اسی بارے میں امام کی’توہین‘ پرصدام کی پٹائی17 November, 2005 | آس پاس صدام پر مقدمہ ساز کے قتل کی سازش 27 November, 2005 | آس پاس دجیل میں کیا ہوا؟28 November, 2005 | آس پاس صدام عدالت میں گرجتے رہے28 November, 2005 | آس پاس عدالت میں کیاہوا: ویڈیو دیکھیں28 November, 2005 | آس پاس دجیل قتلِ عام پر گواہی05 December, 2005 | آس پاس صدام مقدمے کے وکیلِ صفائی قتل22 October, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||