BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 December, 2005, 02:41 GMT 07:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق میں امریکی فوج کا پروپیگینڈا
عراقی حیران ہیں کہ کیا وہ اخبارات پر یقین کریں یا نہیں
وائٹ ہاؤس نے ان اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ کے بارے میں عراقی لوگوں کا رویہ بدلنے کے لیے امریکی فوج مقامی ذرائع ابلاغ کے ذریعے پروپیگڈا کروا رہی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان سکاٹ میکلیلن نے صحافیوں کو بتایا ’ہم پینٹاگون سے اس بارے میں مزید اطلاعات حاصل کر رہے ہیں‘

لاس انجلیس ٹائمز میں شائع ہونے والی رپورٹوں کے مطابق امریکی فوج اپنے بارے میں مثبت قسم کے مضامین شائع کرانے کے لیے عراقی اخبارات کو پیسے دے رہی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا کہ ان الزامات کی تفتیش کی جا رہی ہے اور یہ کہ امریکہ آزادیِ اظہار کا علمبردار ہے۔ ’ہم حقائق جاننا چاہتے ہیں لیکن اخبارات کی آزادی کے معاملے میں ہمارے خیالات سب پر عیاں ہیں۔‘

بغداد میں امریکی فوج کے ترجمان میجر جنرل رِک لنچ نے اس بات کی تصدیق کی کہ عراق میں اسلحے کی جنگ کے ساتھ ساتھ پروپیگینڈے کی جنگ بھی جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج کا مقابلہ ابو مصعب الزرقاوی سے ہے جو اس جنگ میں شریک ہیں۔

پروپیگینڈے کی خبریں کیسی ہوتی ہیں؟
بہت سی خبریں حقائق پر مبنی ہوتی ہیں لیکن وہ یکطرفہ ہوتی ہیں اور ان خبروں میں اکثر ایسی باتیں نہیں ہوتیں جن سے امریکی فوج یا عراقی حکومت کے بارے میں کوئی غلط قسم کا تصور جنم لے

میجر جنرل لنچ کا کہنا تھا کہ عراق میں اغواء کی وارداتیں، سر قلم کرنا اور دھماکے کرانا اس لیے ہے کہ ان واقعات کو پوری دنیا میں توجہ حاصل ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ ابو مصعب الزرقاوی ان واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں اور یہ سب کچھ ایک جھوٹ ہے۔’لیکن ہم عراقی عوام سے جھوٹ نہیں بول رہے۔ ہم انہیں اپنے بارے میں معلومات دے رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہ ’ہم اپنے آپریشنل کمانڈروں کو عراقی عوام کو باخبر رکھنے کے لیے ضرور کہتے ہیں۔‘

لاس انجلیس ٹائمز کے مطابق عراق کی اخباروں میں شائع ہونے والی اکثر خبریں آزادانہ انداز سے پیش کی جاتی ہیں۔ اخبار کے مطابق عراق کے بارے میں خبریں امریکی فوجی لکھتے ہیں اور ایک دفاعی ٹھیکیدار ان کا عربی میں ترجمہ کرتا ہے جس کے بعد وہ عراقی اخبارات کی زینت بنتی ہیں۔

اگرچہ ان میں سے اکثر خبریں حقائق پر مبنی ہوتی ہیں لیکن وہ یکطرفہ ہوتی ہیں اور ان خبروں میں اکثر ایسی باتیں نہیں ہوتیں جن سے امریکی فوج یا عراقی حکومت کے بارے میں غلط قسم کا کوئی تصور جنم لے۔

بی بی سی کی نامہ نگار کیرولائن ہاؤلی نے بغداد سے اپنے مراسلے میں کہا ہے کہ یہ الزامات امریکی فوج کے لیے سبکی کا باعث ہیں خصوصاً ایک ایسے وقت جو امریکی فوج عراق میں ہر چیز کے شفاف ہونے کے تصور کو اجاگر کرنے کی کوشش میں ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد