عراق: خاندان کے5 افراد ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کی پولیس کا کہنا ہے کہ امریکی فوج کی فائرنگ سے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب امریکی فوج نے بعقوبہ شہر کے قریب فوجی اڈے کے باہر ایک گاڑی پر فائر کھول دیا۔ امریکی فوج کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ مقتول افراد کی منی بس کو روکنے کی کوشش کی گئی تووہ نہیں رکی۔ عراقی پولیس کا کہنا ہے کہ اس فائرنگ سے تین بچوں سمیت دو افراد ہلاک ہو گئے جبکہ ایک بچہ زخمی ہو گیا۔ امریکی فوجی ترجمان کے مطابق تین ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ خاندان اس وقت ایک جنازے میں شرکت کے لیے جا رہا تھا۔ عراق میں فوجی گاڑیوں سے سڑکوں کو بند کرکے انہیں فوجی بیس کی شکل دے دی گئی ہے۔ امریکی فوج کے میجر اسٹیو وارن نےاے ایف پی کو بتایا کہ عراقی گاڑی نہیں رکی اور اس کے بعد ہی وہ میشن گن کی گولیوں کا نشانہ بنی۔ بائیس سالہ احمد کمال جو گاڑی چلا رہا تھا اس کا کہنا ہے کہ جب گولیاں برسنی شروع ہوئیں تو اس کے پاس جوابی رد عمل کا وقت نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ’میں نے اپنے خاندان کو ایک کے بعد ایک مرتے ہوئے دیکھا۔ اس وقت گاڑی کو شعلوں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ میں نے لاشوں کو گاڑی سے باہر نکالا‘۔ سنہ دوہزار تین میں امریکی اتحادی فوج کے عراق پر قبضے کے بعد متواتر ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں کہ جب امریکی فوجی دستوں کی جانب سے شہریوں پر گولیاں برسائیں گئیں۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ وہ معصوم شہریوں پر گولیاں برسانے سے گریز کے لیےحتی الامکان اقدامات اٹھاتی ہے۔ اتحادی فوج کی چیک پوسٹیں اور قافلے مزاحمت کاروں کے مسلسل حملوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ فوجی دستوں نے گاڑیوں پر عربی زبان میں خبردار کرنے والے سائن لگا رکھے ہیں جیسے دور رہیں یا گولی مارے جانے کا خطرہ۔ | اسی بارے میں عراقی صدر کا پہلا دورہ ایران 21 November, 2005 | آس پاس عراق:دس فیصد غیرملکی جنگجو18 November, 2005 | آس پاس عراق میں خود کش حملے، 70 ہلاک18 November, 2005 | آس پاس عراق: سابق فوجیوں کی بھرتی شروع02 November, 2005 | آس پاس ’فاقوں مرتے ہوئے‘ عراقی قیدی 15 November, 2005 | آس پاس عراق: بدسلوکی پر امریکی تشویش 16 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||