عراق: بدسلوکی پر امریکی تشویش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے کہا ہے کہ اسے عراق میں ان ایک سو ستر کے لگ بھگ قیدیوں سے مبینہ بد سلوکی کی اطلاعات پر تشویش جنہیں عراقی سکیورٹی اہلکاروں نے نذر بند رکھا ہوا تھا۔ امریکی دفترِ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ نہ تو خود تشدد کرنے پر یقین رکھتا ہے اور نہ ہی اس بات کے حق میں ہے کہ کوئی اور اسے اپنائیں۔ بغداد میں عراقی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں جن قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کا معاملے سامنے آیا ہے، ان میں سے زیادہ تر سنی ہیں اور یہ لوگ وسطی بغداد میں وزارت داخلہ کی عمارت سے برآمد ہوئے ہیں۔ ان میں سے کچھ کو دیکھ کر لگتا ہےکہ انہیں ٹھیک سے کھانا نہیں دیا گیا ہے اور کچھ بظاہر تشدد کا شکار نظر آتے ہیں۔ عراق کے وزیر اعظم ابراہیم جعفری نے اس معاملے کی انکوائری کا حکم دیا ہے۔ اس معاملے میں ابراہیم جعفری کا کہنا ہے ’مجھے بتایا گیا تھا کہ ایک سو تہتر لوگ وزارت داخلہ میں قید تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان میں سے کچھ پر تشدد بھی کیا گیا ہے۔ میں نے فوراً تحقیقات کا حکم دیدیا ہے۔ کمیشن اپنا کام ایک ہفتے میں مکمل کرلے گا۔ اس کے علاوہ ان لوگوں کو ایک بہتر جیل میں منتقل کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے‘۔ ان لوگوں کا پتہ انکشاف اس وقت ہوا جب امریکی فوجی ایک لاپتہ نوجوان کے رشتہ داروں کی شکایت پر وزارت داخلہ کی عمارت میں داخل ہوئے۔ اس بارے میں ایک عراقی نائب وزیرکا کہنا ہے کہ جن قیدیوں کو براآمد کیا گیا ہے ان میں سے کچھ مفلوج ہو چکے ہیں جب کہ کچھ کی جلد ادھڑی ہوئی ہے جو تشدد کا اظہار کرتی ہے۔ نامہ نگار کیرولائن ہاؤلی کے مطابق یہ معاملے عراقی حکومت کے لیے شرمندی گی کا باعث تو بنے گا لیکن اس میں خاص طور پر عراقیوں کے لیے حیرت کی کوئی خاص بات نہیں ہے، شیعہ مسلک کے غلبے والی سکیورٹی فورسز کے خلاف زیادتی کے الزامات کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ | اسی بارے میں رائس اچانک عراق پہنچ گئیں 11 November, 2005 | آس پاس امریکی فوجی: فرد جرم عائد30 October, 2005 | آس پاس فوج بدسلوکی سے باز رہے: سینیٹ06 October, 2005 | آس پاس عراقی لاشوں کی تصاویر کی تحقیقات 28 September, 2005 | آس پاس عراق: بدسلوکی کے تازہ واقعات 16 August, 2005 | آس پاس تشدد کےواقعات: امریکی تشویش03 July, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||