BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 11 November, 2005, 08:23 GMT 13:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رائس اچانک عراق پہنچ گئیں
کونڈا لیزا رائس
کونڈو لیزا رائس کے مطابق ان کی خواہش ہے کہ عراقی عوام ایک متحد ملک کے لیے کام کریں
امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزارائس مشرق وسطٰی کے دورے کے آغاز پر بغیر کسی اعلان کے عراق کے شمالی شہر موصل پہنچ گئی ہیں۔

عراق میں امریکی سفیر اور امریکی فوج کے اعلٰی حکام کونڈو لیزا رائس کو پندرہ دسمبر کو ہونے والے انتخابات کے سلسلے میں سیکورٹی کے متعلق بتائیں گے۔

عراق کے دورے کے بعد امریکی وزیرخارجہ بحرین، سعودی عرب اور اسرائیل جائیں گی اور مشرق وسطٰی میں جمہوری اور اقتصادی اصلاحات کے فنڈ کے قیام کا اعلان کریں گی۔

بحرین میں وہ دو نئے پروگرام شروع کرنے کا اعلان کریں گی۔ پہلا ’مستقبل کے لیے فنڈ‘ کے نام سے ایک پچاس ملین ڈالر کے فنڈ کا قیام ہے جس کا مقصد خطے میں چھوٹے کاروبار کو بڑھانا ہے جبکہ دوسرے پروگرام کے تحت وہ ’مستقبل کی بنیاد‘ نامی ایک فنڈ کے تحت پینتیس ملین ڈالر کا اعلان کریں گی۔ اس دوسرے پروگرام کا مقصد مشرق وسطٰی میں سیاسی اصلاحات کی ترویج ہے۔

کونڈو لیزا رائس کا خیال ہے کہ ان دو فنڈز کے قیام سے دنیا میں جہموریت اور آزادی کے پھیلاؤ کے صدر بش کے منصوبے کو تقویت ملے گی تاہم بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن بیل کے مطابق امریکی وزیر خارجہ کو اس سلسلےمیں سخت سوالات کا سامنا کرنے پڑے گا۔ ان میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ امریکہ کے پاس دنیا میں جمہوریت پھیلانے کے منصوبے کا اخلاقی جواز کیا ہے۔

کونڈولیزا رائس کو خاص طور پر امریکہ میں قیدیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سوالات کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ امریکہ کو گزشتہ کچھ عرصے سے اس الزام کا سامنا ہے کہ وہ اسلامی شدت پسندوں کو خفیہ قیدخانوں میں رکھے ہوئے ہے۔

اگرچہ امریکی انتظامیہ نے ان الزامات کی تصدیق یا تردید نہیں کی کہ اس کے ہاں قیدیوں کے ساتھ بالائے قانون بدسلوکی کی جاتی ہے تاہم اس کا اصرار رہا ہے کہ وہ قانون کے دائرے میں رہا ہے اور قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی نہیں کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ امریکی وزیر خارجہ کا اسرائیل اور فلسطینی علاقوں کا دورہ بھی خاصی اہمیت کا حامل ہے۔ وہ اسرائیلی اور فلسطینی حکام سے تل ابیب میں بات چیت کریں گی جس کے دوران وہ دونوں فریقوں پر زور دیں گی کہ وہ غزہ سے اسرائیلی انخلاء کے اقدام سے فائدہ اٹھائیں۔

اسی بارے میں
دمام محاصرے میں پانچ ہلاک
06 September, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد