دمام محاصرے میں پانچ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی عرب کے مشرقی شہر دمام کی ایک عمارت میں چھپے شدت پسندوں کے محاصرے کے تیسرے دن تین مشتبہ شدت پسند اور دو پولیس والے ہلاک ہوگئے ہیں۔ اتوار کو شروع ہونے والے محاصرے میں اب تک مرنے والے شدت پسندوں کی تعداد پانچ ہو گئی ہے جبکہ اطلاعات کے مطابق گزشتہ دو روز میں فائرنگ کے تبادلے میں ایک پولیس اہلکار بھی ہلاک ہو گیا تھا۔ پولیس اور سکیورٹی فورسز دمام کی ایک مصروف گلی میں ایک عمارت کا بدستور محاصرہ کیے ہوئے ہیں جس میں شدت پسندوں نے پناہ لے رکھی ہے۔ دریں اثناء امریکی حکومت نے دہران میں اپنا قونصل خانہ عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ قونصل خانے کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ دمام میں جاری مسلح جھڑپ کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ گزشتہ روز سکیورٹی فورسز نے تین شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا جو ان کے بقول القاعدہ تنظیم سے تعلق رکھتے تھے۔ عینی شاہدوں نے شدید لڑائی ہونے کی اطلاع دی ہے۔ عمارت کے اندر محصور شدت پسندوں کے بارے میں متضاد اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اس سے قبل عینی شاہدین نے اطلاع دی تھی کے دمام کے ایک مصروف کاروباری علاقے میں جب فوج اور پولیس نے ایک عمارت کا محاصرہ کیا تو دونوں طرف سے فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا۔ دمام سعودی عرب کے مشرق کا وہ علاقہ ہے جہاں تیل کے ذخائر بالکثرت ہیں۔ اس سے پہلے بھی سعودی عرب متعدد افراد شدت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ سعودی سکیورٹی اہلکاروں اور مبینہ شدت پسندوں کے درمیان اپریل میں بھی اس سال ایک جھڑپ ہوئی تھی جو دو دن جاری رہی تھی اور اس میں سات مبینہ شدت پسند ہلاک ہوئے تھے جب کہ چالیس کے قریب سکیورٹی اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔ واضح رہے کہ سعودی حکومتی حلقے کہتے ہیں کہ مبینہ اسلامی شدت پسند برسرِ اقتدار سعودی خاندان کا تختہ الٹنے اور تمام غیر ملکیوں کو سعودی عرب سے نکالنا چاہتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||