’امریکہ سعودی عرب کے خلاف‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی عرب کو امریکہ نے ان ملکوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے جہاں مذہبی آزادیوں کی سنگین خلاف ورزیاں کی جاتی ہیں۔ امریکی دفترِ خارجہ نے کہا ہے اس کے اس قریب ترین اتحادی ملک میں مذہبی آزادی کو نہ تو تسلیم کیا جاتا ہے اور نہ ہی اسے کوئی قانونی تحفظ حاصل ہے۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ سعودی شاہی خاندان اور علاقے کی دوسری مملکتوں کو متنبہ کرے گا کہ وہ اب ان کے بارے میں مزید چشم پوشی اختیار نہیں کر سکتا۔ بی بی سی کے مذہبی تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکہ کی گزشتہ رپورٹوں میں بھی سعودی عرب میں مذہبی آزادیوں کے فقدان پر تنقید کی جاتی رہی ہے تاہم اب حلات کو انتہائی تشویشناک قرار دیا گیا ہے ۔ امریکی پالیسی کے حوالے سے دیکھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ سعودی عرب پر پابندیاں بھی عاید کر سکتا ہے۔ سعودی عرب میں ایک انتہائی سخت گیر قسم کے سنی عقیدے کی پیروی کی جاتی ہے اور اس کے علاوہ کسی اور مکتبِ فکر کو کوئی آزادی حاصل نہیں۔ اسلام کے علاوہ دیگر مذہبی عمارتوں اور علامتوں پر بھی کڑی پابندی ہے۔ سعودی حکومت ایسے گھروں پر چھاپے مارتی ہے جہاں غیر ملکی اپنے طریقۂ کار کے مطابق عبادت کرتے ہوں۔ اس مبینہ’جرم‘ میں کچھ عرصہ قبل کچھ فلپائینی باشندوں کو گرفتار کیا گیا تھا، بعد میں انہیں کوڑے مارے گئے اور پھر واپس فلپائن بھیج دیا گیا۔ یہ رپورٹ ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکی افسران القاعدہ اور سعودی عرب کے مابین تعلقات کے بارے میں چہ میگویاں کر رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||