’دہشت گردی سے لڑتے رہیں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اسلامی شدت پسندوں کا خاتمہ کرکے رہیں گے۔ سعودی کابینہ نے پیر کو جدہ میں امریکی قونصل خانے پر ہونے والے حملے کی مذمت کی جس میں سفارت خانے کے پانچ غیر امریکی اہلکار مارے گئے تھے۔ یہ اہلکار ایشیائی اور عرب نژاد تھے تاہم واضح تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آئیں۔ ریاض میں قونصل خانے کے ایک ترجمان کے مطابق ان میں سے چار انتظامی عملے سے متعلق تھے جب کہ ایک پرائیوٹ سیکیورٹی گارڈ تھا۔ حملہ آوروں میں سے تین سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مقابلے میں ہلاک ہوگئے تھے، چوتھا بعد میں ہسپتال میں دم توڑ گیا جب کہ ایک حملہ آور کو گرفتار کرلیا گیا۔ حملے کی ذمہ داری کا دعویٰ ایک انتہا پسندانہ ویب سائٹ پر ایک گروہ نے کیا ہے جو خود کو القاعدہ کا سعودی ونگ ظاہر کرتا ہے۔ ویب سایٹ پر اس آپریشن کو ’بابرکت فلوجہ جنگ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ یہ حملہ ظاہر کرتا ہے کہ ’دہشت گرد ابھی فعّال ہیں‘ اور ان کی کوشش ہے کہ امریکہ سعودی عرب اور عراق سے نکل جائے۔ وزیرِ حارجہ کولن پاول کا کہنا ہے کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ سعودی سیکیورٹی کے ذرائع نے خبر رساں ایجنسی رائٹر کو بتایا کہ قونصل خانے کے اردگرد انتہائی حفاظتی انتظام کی وجہ سے حملہ آور بذریعہ کار اندر داخل ہونے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ حملہ آور مختلف راستوں سے گرینیڈ اور خودکار اسلحہ استعمال کرتے ہوئے اندر داخل ہونے کی کوشش کرتے رہے۔ خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو قونصل خانے کے ایک اہلکار نے بتایا ہے کہ عملے کو عمارت میں ایک محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا تھا۔ اہلکار کا کہناتھا کہ ’ہم باہر سے فائرنگ کی آوازیں سن سکتے تھے لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ کیا ہورہا ہے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||