عراق سےنکلنا غلط ہے: رائس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کی وزیرخارجہ کونڈا لیزا رائس نے کہا ہے کہ امریکہ کو عراق میں اپنے مشن سے دست بردار نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امریکہ کی عراق کے مشن سے دست برداری مشرق وسطی میں آزادی اور جمہوریت کے دشمنوں کی حوصلہ افزائی کا سامان فراہم کرے گی۔ رائس نے کہا کہ امریکی عوام کو پتہ ہونا چاہیے کہ اگر عراق کو ’وحشی قاتلوں‘ کے حوالے کیا گیا تو کیا نتائج نکلیں گے۔ بی بی سی کے امریکی دفترخارجہ کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ لگتا ہے کہ رائس کی تقریر امریکی عوام میں عراق کی جنگ کے حوالے سے کم ہونےوالے حمایت کو مزید کمی سے روکنے کی ایک کوشش ہے۔ امریکی رائے عامہ کے حالیہ جائزے بتاتے ہیں کہ عوام میں عراق کے معاملات سے متعلق صدر بش کی حکمت عملی کے بارے میں حمایت میں کمی ہو رہی ہے۔ پرنسٹن یونیورسٹی میں طالب علموں سے خطاب کے دوران کونڈا لیزا رائس انہوں نے کہا کہ ’اگر ہم اس وقت عراق کو چھوڑ دیں گے توہم عراق کے جمہوریت پسندوں کو اس وقت تنہا کر دیں گے جب انہیں ہماری اشد ضرورت ہے۔ اس سے ہم مشرق وسطی میں جمہوریت اور آزادی کے دشمنوں کی حوصلہ افزائی کریں گے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر ہم مشرق وسطی میں آنے والی نسل کو مایوسی اور دہشت گردی کے حوالے کرتے ہیں تو اس طرح ہم امریکہ میں بھی آنے والی نسل کو غیر محفوظ اور ڈر میں جھونک دیں گے‘۔ ان کی تقرر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے کہ جب عراق میں نئے آئین کے حوالے سے پندرہ اکتوبر کو ریفرنڈم ہونے جا رہاہے۔ رائس نےاپنی تقریر میں امریکہ کے عراق میں فوج کے استعمال کا دفاع کیا اور ڈھکے چھپے انداز میں عراق پر فوج کشی میں ساتھ نہ دینے والے ممالک پر تنقید کی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||