رائس کی تنقید، ریاض کا انکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی عرب امریکی وزیرخارجہ کی طرف سے جمہوری اصلاحات اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کے مطالبات پر زیادہ توجہ نہیں دےگا۔ امریکی وزیر خارجہ نے ریاض پہنچنے سے پہلے اس خیال کا اظہار کیا تھا کہ سعودی رہنماؤں کو ملک میں جمہوریت کی جانب اقدامات اٹھانے چاہیں۔ ریاض پہنچنے کے بعد کونڈولیزا رائس نے ولی عہد شہزادہ عبداللہ (جو اس وقت عملی طور پر سعودی عرب کے فرمانروا ہیں) اور وزیرخارجہ سعود الفیصل سے بات چیت کی ہے۔ بعدازاں شہزادہ سعود الفیصل نے کہا کہ کسی بھی ملک میں سیاسی اصلاحات کا بہترین فیصلہ اس ملک کےعوام کر سکتے ہیں۔ تین سیاسی قیدیوں کے بارے میں شہزادہ سعودالفیصل نے کہا کہ یہ لوگ عدالت کے ہاتھ میں ہیں نہ کہ حکومت کے پاس۔ مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ایک تقریر کے دوران کونڈولیزارائس نے مشرق وسطیٰ میں جمہوری اصلاحات پر جس قدر زور دیا ایسا اس سے پہلے امریکہ کے کسی بھی سینئر عہدیدار نے نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا ’مشرق وسطٰی میں کہیں بھی آزادانہ انتخاب کے خوف کے نام پر آزادی سےانکار کو حق بجانب نہیں قرار دیا جا سکتا اور اب وقت آگیا ہے کہ ان بہانوں سے پرہیز کیا جائے جو جمہوریت کے لیے کام نہ کرنے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔‘ اپنی تقریرمیں امریکی وزیر خارجہ نے مصر کے سیاسی ریکارڈ پر تنقید کرنے کے علاوہ ان تین (سعودی) باشندوں کا بھی ذکر کیا جنہیں ’حکومت کے خلاف پرامن تنقید کی وجہ سے جیل بھجوا دیا گیا ہے۔‘ کونڈولیزا رائس کا اشارہ سعودی عرب کے اُن تین سیاسی کارکنوں کی طرف تھا جنہیں اس سال مئی میں سعودی عرب کو ایک آئینی بادشاہت میں تبدیل کرنے کے مطالبے کے جرم میں چھ سے نو سال کی قید سنائی گئی ہے۔ ان کارکنوں کے نام علی الدیمائنی، عبداللہ الحامد اور متروک الفلاح ہیں۔ سعودی عرب میں ایک شفاف حکومت کا مطالبہ کرنے والے ان تین ’بہادر شہریوں‘ کی تعریف کرتے ہوئے امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ جوکام ان تینوں نے کیا ہے ’وہ کسی بھی ملک میں جرم کے دائرے میں نہیں آنا چاہیے۔‘ کونڈولیزا رائس نے مذکورہ تقریر اپنےمشرق وسطٰی کے حالیہ دورے کے آخری مرحلے میں سعودی عرب روانہ ہونے سے پہلے کی۔ ریاض پہنچنے کے بعد انہوں نےشہزادہ عبداللہ سے ملاقات کی جبکہ اس سے پہلے انہوں نے ریاض ائر بیس پر شہزادہ سعودالفیصل کے ساتھ چائے پی۔ رات گئے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شہزادہ سعودالفیصل نے کہا ’یہ جھگڑا بالکل بے معنی ہے کیونکہ کسی بھی ملک میں سیاسی اصلاحات کے سلسلہ میں جو بات سب سے اہم ہے وہ یہ ہے کہ اس ملک کے عوام اس معاملے میں کیا سوچتے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ جہاں تک قیدیوں کا تعلق ہے تو ’اس سلسے میں حکومت اس وقت تک کچھ نہیں کر سکتی جب تک کہ عدالت کی طرف سے کوئی اقدامات نہیں ہوتے۔‘ توقع ہے کہ تینوں سیاسی کارکنوں کے وکلاء جمعرات کو ان کی سزا کے خلاف اپیل کریں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||