BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 21 June, 2005, 00:39 GMT 05:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عرب ممالک جمہوریت بڑھائیں‘
امریکی وزیر خارجہ ، مصر کے صدر حسنی مبارک کے ساتھ
امریکی وزیر خارجہ ، مصر کے صدر حسنی مبارک کے ساتھ
امریکی وزیر خارجہ کونڈالیزا رائس اپنے مشرق وسطیٰ کے دورے کا اختتام سعودی عرب میں کر رہی ہیں جہاں ان کی ملاقات سعودی ولی عہد شہزادہ عبداللہ سے ہوئی ہے۔

رائس نے سعودی عرب پہنچنے سے پہلے ہی وہاں پر سیاسی صورتحال کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نہ تین سعودی سیاسی قیدیوں کی رہائی اور عورتوں کے لیے ووٹ کے حق کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے یہ بات قاہرہ میں ایک تقریر میں کہی اور عرب ممالک میں جمہوریت کے فروغ پر زور دیا۔

مصر میں انہوں نے صدر حسنی مبارک سے ملک میں جمہوری اِصلاحات کو مزید بڑھانے پر زور دیا ہے۔

کونڈالیزا رائس نے مصر کے آئین میں ترمیم اور اس کے تحت ہونے والے صدارتی انتخابات کا خیر مقدم کیا ہے۔

مگر ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کو بھی ستمبر میں ہونے والے انتخابات میں ذرائع ابلاغ کے استعمال کی کھلی آزادی ہونی چاہیے۔وزیر خارجہ کے مطابق مقابلے کا عمل آزادانہ اور منصفانہ ہونےہی میں بہتری ہے۔

وہ اپنے دورے کے دوران مشرقِ وسطی کے ممالک میں جمہوری نظام قائم کرنے پر زور دے رہی ہیں۔

انہوں نے مصر کے صدر کو محتاط کیا ہے اور کہا ہے کہ ان انتخابات کے دوران پوری دنیا کی نظر مصر پر ہوگی۔

کونڈالیزا رائس نے سینائی کے تفریحِ مقام شرم الشیخ میں ملاقات کے بعد کہا ہے کہ ان کو یقین ہے کہ مصر کی حکومت اپنے فرائض ذمہ داری سے نبھائے گی کیونکہ کہ دنیا بھر کے لوگوں کی نظر ان پر ہو گی۔

مصر کے صدر حسنی مبارک نے وزیر خارجہ کو یقین دلایا ہے کہ ستمبر میں ہونے والے یہ انتخابات آزادانہ اور منصفانہ ہونگے۔

احمد ابوالغیث کے مطابق صاف اور شفاف انتخابات پر کسے اعتراض ہو گا۔

وزیر خارجہ قاہرہ میں شہری نمائندوں سے پالیسی پر تقریر کے بعد سعودی عرب کے لیے روانہ ہونگی۔

مصر سے پہلے انہوں نے اردن کا دورہ کیا اور وہاں جمہوری نظام کے قیام کے بارے میں مذاکرات کیے۔

ان کا کہنا ہے کہ اردن میں جمہوریت قائم کرنے کے لیے امریکہ گزشتہ ساٹھ سالوں سے ناکام ہے۔

کونڈالیزا رائس کے مطابق جمہوری نظام نہ ہونے کے باعث وہاں شدت پسندوں کو موقع ملا ہے اور عوام کو اپنی رائے ظاہر کرنے کا صحیح موقع نہیں ملا۔

تجزیہ کاروں کا یہ کہنا ہے کہ امریکہ کے اصلاحات پر اصرار سےخطے میں حزبِ اختلاف کی تحریکوں کو حوصلہ ملا ہے۔

خود مختار اخبارات اور جرائد نے مصری صدر پر تنقید کرتے رہے ہیں اور یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے اختیارات میں کمی کرنے کو کہا ہے۔

قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق مصر میں اپوزیشن ، واشنگٹن پر بے اعتمادی کا اظہار کرتی ہے۔

بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے لیے امریکہ کی حمایت اور عراق پر حملہ کے بعد امریکہ کو محتاط رہنا چاہیے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد