’دہشت گرد حملوں میں اضافہ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی کانگریس کے ایک رکن نے کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے دہشت گردی پر سالانہ رپورٹ بنانے والوں کو دہشت گردانہ حملوں کے اصل اعداد و شمار نہیں بتائے ہیں۔ کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے کانگریس کے رکن ہنری ویکس مین نے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ یہ اعداد و شمار منظر عام پر لائے۔ رکن کانگریس کا دعوی ہے کہ پچھلے سال کے دوران ایسے قابل ذکر حملوں میں تین گناہ اضافہ ہوا ہے۔ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے پچھلے ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ اب اس طرح کے عداد و شمار شائع نہیں کرے گا بلکہ یہ کام اب حال میں تشکیل دیا جانے والا انسداد دہشت گردی کا قومی مرکز کیا کرے گا۔ مسٹر ویکس مین نے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ پر الزام لگایا ہے کہ وہ اس طرح کی معلومات کو چھپا رہا ہے۔ وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس کو بھیجے گئے ایک خط میں مسٹر ویکسمین نے کہا ہے کہ موجودہ اعداد و شمار بھی حقیقت سے بہت کم معلوم ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے کچھ ایسے واقعات کو محض اس لیے ان اعداد شمار میں شامل نہیں کیا گیا کہ وہ دہشتگردی کے لیے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی مقرر کردہ تعریف پر پورے نہیں اترتے ہیں اگرچہ انہیں بیشتر امریکی دہشت گرد حملے ہی سمجھیں گے۔ گزشتہ سال کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ عالمی سطح پر دہشت گردی کے صرف ایک سو نوے واقعات ہوئے تھے۔ اس سے ظاہر یہ ہوتا تھا کہ تین سال میں دہشت گرد کارروائیوں میں کمی آئی ہے۔ انتظامیہ نے کہا ہے کہ ایسی کوششوں میں کمی اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کامیاب ہو رہی ہے۔ تاہم رکن کانگریس ویکس مین کے مطابق انتظامیہ صحیح صورتحال نہیں بتا رہی ہے۔ سابق وزیر خارجہ کولن پاول نے کہا ہے کہ یہ عوام سے سچ چھپانے کی کوشش نہیں تھی بلکہ یہ انتظامی اور تحریری غلطیوں کا نتیجہ تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||