سپین: پاکستانی پر فردِ جرم عائد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپین کی ایک عدالت کے جج نے ایک پاکستانی کو شدت پسند تنظیم کو سرمایہ فراہم کرنے کے الزام میں فردِ جرم عائد کی ہے۔ پاکستانی کو جس کا نام نہیں بتایا گیا منگل کو بارسلونا سے ایک اور شخص کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد میں دوسرے شخص کو رہا کر دیا گیا۔ عدالتی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ جس شخص پر فردِ جرم عائد کی گئی ہے ان پر شدت پسند تنظیم کے لیے منی لانڈرنگ کرنے کا الزام ہے۔ ستمبر میں بھی سپین میں درجنوں پاکستانیوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے متعلق شبہ تھا کہ وہ کسی شدت پسند تنظیم کے ممبر تھے اور منشیات کا بھی کاروبار کر رہے تھے۔ ستمبر میں ان افراد کی گرفتاری کا حکم سپین کی قومی عدالت نے دیا تھا جو دہشت گردی کے بارے میں مقدمات کی سماعت کرتی ہے۔ ان کا مارچ میں میڈرڈ میں ہونے والے دھماکوں سے کوئی تعلق نہیں بتایا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||