پاکستانیوں سمیت چھبیس گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپین کے شہر بارسلونا میں پولیس نے پاکستانیوں سمیت ان چھبیس افراد کو گرفتار کیا ہے جن پر ایک اسلامی شدت پسند تنظیم کے رکن ہونے کا الزام ہے۔ بارسلونا میں تعینات پاکستانی سفارتکار شفقت علی چیمہ نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ گرفتار شدہ افراد میں سے پاکستانیوں کی تعداد آٹھ سے دس بتائی جاتی ہے۔ پاکستانی سفارتکار کے مطابق ان افراد کو بارسلونا کے نواحی گاؤں بادلونا سے گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان افراد پر جعلی دستاویزات رکھنے اور کریڈٹ کارڈ فراڈ کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ سفارتکار کے مطابق اس سے دو ہفتے پہلے بھی بارسلونا سے کئی افراد کو گرفتار کیا تھا اور ان پر گیارہ مارچ کو میڈرڈ میں ہونے والے بم دھماکوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا تھا لیکن بعد میں ذرائع ابلاغ میں چھپنے والی خبروں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا۔ کسی دہشت گرد گروپ سے تعلق سے متعلق ایک سوال کے جواب میں شفقت علی چیمہ نے کہا کہ ہسپانوی حکام اس بات کی تفتیش کررہے ہیں کہ کریڈٹ کارڈ فراڈ سے حاصل کی گئی رقومات کہیں کسی دہشت گرد گروپ کی امداد کے لیے استعمال تو نہیں ہوئیں۔ اس سے پہلے بارسلونا پولیس کے ترجمان نے کہا تھا کہ کئی تجارتی املاک اور گھروں کی تلاشی لی جا رہی ہے لیکن تاحال وہاں سے کوئی دھماکہ خیز مواد یا اسلحہ برآمد نہیں ہوا۔ ان افراد کی گرفتاری کا حکم سپین کی قومی عدالت نے دیا تھا جو دہشت گردی کے بارے میں مقدمات کی سماعت کرتی ہے۔ ان کا مارچ میں میڈرڈ میں ہونے والے دھماکوں سے تعلق نہیں بتایا گیا۔ میڈرڈ دھماکوں کے بارے میں پارلیمانی تحقیقات کا آغاز بدھ سے ہو رہا ہے جن میں سپین کے سابق وزیر اعظم خوزے ماریا ازنار کو گواہی دینے کے لیے طلب کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||