میڈرڈ دھماکوں کا بڑا ملزم گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اطالوی حکام نے کہا ہے کہ انہوں نے میڈرڈ دھماکوں سے 191 افراد کی ہلاکتوں کے ذمہ دار بڑے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے تین افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں دھماکوں کا بڑا ملزم بھی شامل ہے۔ پولیس کے مطابق بڑے ملزم کا نام ’محمد دی ایجپشن‘ یا محمد مصر والا ہے اور اس نے دھماکوں سے ٹرینوں کو نشانہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ دریں اثناء بلجیم کی پولیس نے کہنا ہے کہ اس نے دھماکوں کی سازش کرنے کے سلسلے میں پندرہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار کیے جانے والے افراد فلسطینی، مصری، اردنی اور مراکشی نژاد ہیں۔ اس سے پہلے اٹلی اور بلجیم میں پولیس نے کہا تھا کہ سپین میں مارچ میں ہونے والے حملوں کے سلسلے میں کم از کم دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ تاہم اس وقت گرفتاریوں کی تفصیلات نہیں بتائی گئی تھیں لیکن کہا گیا تھا کہ گرفتاریاں بین الاقوامی پولیس کی ان کوششوں کا حصہ ہیں جو مختلف ممالک میں کی جا رہی ہیں۔ سپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں گیارہ مارچ کو ہونے والے حملے میں ایک سو اِکانوے افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اطالوی پولیس نے بتیا تھا کہ ہسپانوی وارنٹوں پر عملدرآمد کرتے ہوئے ایک شخص عثمان سید احمد کو میلان میں گرفتار کیا گیا ہے اور اسے ’محمد مصر والا‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، خیال ہے کہ ان کا تعلق مراکش سے ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||